تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 377
By Maulana Wahiduddin Khan
3۔ اس کا تیسرا پہلو وہ ہے جو امت مسلمہ کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو ایمان لا چکے ہوں ۔ ان کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ ان کے اندر باہمی تنظیم ہو۔ ان کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کی نصیحت کا نظام قائم ہو۔ اسی چیز کو قرآن میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کہا گیا ہے۔ اور اس کا دوسرا نام آمر بالمعروف اور تناہی عن المنکر ہے۔ یہ عابدانہ زندگی کا تیسرا مظہر ہے۔ جو خود عابدین کی جماعت کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے۔ 4۔ اس سلسلے کی آخری چیز نصرت دین ہے۔ یعنی خدا کے دین پر جب کسی حیثیت سے کوئی آنچ آئے تو اس کے لیے اپنے آپ کو صرف کرنا۔ یہ مندرجہ بالا تقاضوں سے بالکل الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ مگر اس کی مخصوص حیثیت کو واضح کرنے کے لیے ہم نے اسے الگ عنوان کے تحت درج کیا ہے۔ اطاعت اب عبادت کے پہلے مظہر ـــ اطاعت ــــ کو لیجیے اطاعت اور عبادت دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ چیز نہیں ہیں۔ یہ ایک اعتباری تقسیم ہے جو دو طرح کے احکام کے نوعی فرق کو سمجھنے کے لیے اختیار کی گئی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے فقہا اس قسم کے احکام کو اخلاق و معاملات سے الگ کرنے کے لیے ” تعبدی احکام“ کا عنوان دیتے ہیں ۔ حالانکہ اخلاق و معاملات بھی ایک لحاظ سے عبادتی افعال ہیں وہ اس سے الگ نہیں ہیں۔ اطاعت کی دو بڑی قسمیں ہیں: انفرادی اور اجتماعی۔ انفرادی اطاعت سے مراد ان چیزوں میں خدا کی فرماں برداری کرنا ہے جن کا تعلق انسان کی ذاتی زندگی سے ہے۔ اس میں وہ تمام کے تمام احکام آجاتے ہیں جو اخلاق و معاملات سے متعلق دیے گئے ہیں۔ وہ سب کچھ جو انسان ذاتی طور پر کر سکتا ہے، اور وہ سب کچھ جس میں انسان اپنے ذاتی فیصلہ سے کوئی رویہ اختیار کرتا ہے، ان میں خدائی ہدایات کو اپنانے کا نام انفرادی اطاعت ہے۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ جب اس کو اپنے کسی معاملے میں خدا کا حکم معلوم ہو جائے ، اور وہ اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader