خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
رام پور تشریف لائے یہاں مولانا ابواللیث صاحب نے ان سے گفتگو کر کے انھیں تحریر کا جواب دینے کے لیے آمادہ کیا۔ اس کے بعد ان سے گفتگو ہوئی اور وہ جس منزل پر پہنچی ، اس کی روداد اس خط و کتابت سے معلوم ہو گی جو اس دوران میں میرے اور موصوف کے درمیان ہوئی۔ میں نے مولانا کو لکھا کہ امیر جماعت سے معلوم ہوا کہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی ہے۔ اور آپ میری تحریر پر تبصرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ براہ کرم اپنی آمادگی سے مطلع فرمائیں۔ تاکہ تحریر آپ کی خدمت میں روانہ کی جا سکے۔ اس کے جواب میں حسب ذیل خط ملا: ྾྾྾྾྾ چتر پور 9 جولائی 1962 ء برادر مکرم وعلیکم السلام 1۔ مولانا ابواللیث صاحب نے مجھ سے اسی طرح کہا جیسا آپ نے لکھا ہے۔ 2۔ میں نے کہا مجھ سے معاملہ اس طرح ہو سکتا ہے، اور اس کی اطلاع بھی آپ کو دی ہے کہ مسودہ کو آخری شکل دے کر اس کی نقل ملے، میں پڑھوں اور پھر طالب علم کی طرح سوالات کروں توضیح مطالب چاہوں دلائل پر غور کروں اور پوچھوں اس طرح یہ مسألہ جو تحریر کے ذریعہ ہوگا۔ اس میں دیر لگے گی ، اس طرح کی مکاتبت میں مدت کی تحدید نہ آپ کر سکتے ہیں نہ میں کر سکتا ہوں اس کے لیے بہر حال صبر درکار ہے۔ والسلام جلیل احسن ྾྾྾྾྾ اس کے جواب میں 21 جولائی کی ڈاک سے میں نے تحریر کی ایک نقل مولانا کی خدمت میں روانہ کر دی اور درخواست کی کہ براہ کرم اپنا تبصرہ اگست کے آخر تک لکھ کر بھیج دیں، اس کے بعد موصوف کا حسب ذیل خط ملا۔ ྾྾྾྾྾

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader