خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
چترپور 25 جولائی 1962ء برادرمکرم جناب وحید الدین خاں! سلام مسنون میری داشتہ آر تسلیم کہ ۲۴ میں پوچھوں گا اور بھی شہ لازم جانیں کہ ہمارے میری شرط آپ تسلیم کر لیں کہ میں پوچھوں گا، اور یہ بھی شرط لازم جائیں کہ میرے یہاں تحدید وقت ناممکن ہے۔ ان دونوں باتوں کو تسلیم کیجیے تب آپ کی مرسلہ تحریر دیکھنے کے لیے اٹھاؤں گا، اگر آپ کو یہ منظور نہ ہو تو تحریر بمسرت واپس کی جائے گی۔ ان باتوں کو میں مدرسۃ الاصلاح سے لکھ چکا، لیکن آپ نے انھیں کلیۃً نظر انداز کرتے ہوئے لکھا کہ تحریر بھیج رہا ہوں، اور یہ کہ تم لازماً اگست کے آخر تک اپنا تبصرہ لکھو۔ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ بالکل ناممکن ہے۔ مجھے اس طرح کی تبصرہ نگاری آتی تو بار بار اپنی شرط کا اعادہ کیوں کرتا۔ آخر آپ اتنے بے صبر کیوں ہو گئے؟ کیا ں برہاں اس رہبرِ راہِ پر خار کا اشارہ ہے؟ بے صبری ”مومنِ کامل“ کی صفات میں سے صفتِ اول ہے؟ ب رے میں مارے، یا جلیل احسن ک الیقہ کے س میں میں نے جواب میں لکھا کہ آپ خود جیسے مناسب سمجھیں اس کے مطابق تبصرہ کریں، میں بہرحال اپنے خیالات کے بارے میں آپ کا تبصرہ معلوم کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد حسب ذیل بارہاں آپ یاد دلاتے رہے ہیں، آپ کا خط موصول ہوا: چترپور 17 اگست 1962ء برادر مکرم سلام مسنون 1۔ آپ کی تحریر ملی پر ابھی پڑھی نہیں ہے، 2۔ اطلاع ملی ہے کہ آپ کی تحریر شائع نہ کر سکے مادہ کی اس کی بد بتاتے ہیں کہ کیا صحیح ہے؟ 2۔ اطلاع یہ ملی ہے کہ آپ یہ تحریر شائع کرنے کے لیے بیتاب ہیں کیا یہ سچ ہے؟ 3۔ اس صورت میں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اعظم گڑھ چلے آئیں، اور پھر ہمارے آپ کے درمیان مراسلت ہو، ہو سکتا ہے آپ پر اپنی تعبیر کی غلطی واضح ہو جائے، جس آدمی کو اطمینان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader