تمہید
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا کی ساری زندگی گواہی دیتی ہے کہ وہ سراپا درد دین تھے۔ وہ اگرچہ لکنٹ کی وجہ سے، نیز اکثر قدیم طرز کی زبان اور اصطلاحات میں بولنے کی وجہ سے عام لوگوں کو اپنی بات بخوبی سمجھ نہیں پاتے۔ مگر جب وہ بولتے تو شدت احساس کی وجہ سے ان کا وجود مجسم بیان اور اظہار بن جاتا۔ اکثر تاہی بے آب کی طرح تڑپتے، آہیں بھرتے اور فرماتے "میرے اللہ میں کیا کروں، کچھ ہوتا ہی نہیں"۔ اس قدر کمزور اور لاغر تھے کہ دیکھنے والوں کو ترس آتا۔ مگر اس کے باوجود تندرست اور طاقتور لوگوں سے زیادہ کام کرتے۔ فرمایا کرتے تھے " دین کے فروغ کے لیے جان دینے کے شوق کو زندہ کرنا اور جان کو بے قیمت کر دینا ہماری تحریک کا خلاصہ ہے " اپنے مقصد کے پیچھے آرام اور کھانا پینا تک بھول جاتے ۔ میوات کے نامہوار علاقوں میں ۲۰-۲۰ میل اور ۲۵-۲۵ میل تک پیدل چلے جاتے۔ کھانا موجود نہ ہونے کے باوجود بعض اوقات اس ہنگامی زندگی کی وجہ سے کھانے کی نوبت نہ آتی۔ کئی بار ایسا ہو اک جمعہ کے دن نظام الدین سے کھانا کھاکر روانہ ہوتے اور اتوار کو نظام الدین واپس آکر کھانا کھایا۔ راتوں کو جاگنا، پہاڑیاں عبور کرنا، میوات کے میدانوں میں کبھی گرم تو کی پلٹیں اور کبھی زمستانی ہوا کے سرد جھونکوں کا مقابلہ کرنا، یہ ان کی زندگی تھی۔ اس طرح کے پر مشقت سفروں میں کبھی دیکھتے کہ ساتھی گھبرا گئے ہیں تو فرماتے: " جبل جحد کے پرلی طرف خدا ہے جس کا جی چاہے مل لے " بیماری کے عالم میں کوئی خیریت پوچھتا تو فرماتے : " بھئی تندرستی بیماری تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اس میں کیا خیریت اور کیا بے خیریت ۔ خیریت تو جب ہے کہ جس کام کے لیے پیدا کئے گئے ہیں وہ کام ہو " ایک مرتبہ مولانا کے وطن کاندھلہ سے کچھ اعزہ عیادت کے لیے آئے ۔ مولانا نے پوچھا کس لیے آئے کہنے لگے آپ کی خیریت دریافت کرنے کے لیے ۔ فرمایا۔ جو مٹنے کے لیے بنا ہے اس کی خیریت پوچھنے کے لیے کاندھلہ سے یہاں تک آؤ ۔ اور رسول کریم کا دین جو مٹنے والا نہیں، وہ مٹایا جا رہا ہے، اور تم اس کی خبر نہیں لیتے "۔ بیماری میں ڈاکٹر بولنے سے منع کرتے تو فرماتے ۔ " تبلیغ کے لیے بول کر مرجانا پسند کرتا ہوں۔ بہ نسبت اس کے کہ اس سے خاموش رہ کر صحت حاصل کروں "۔ ایک صاحب کو طلب خیریت کے سلسلے میں جواب دیتے ہوئے خط میں لکھا: " طبیعت میں سوائے تبلیغی درد کے اور خیریت ہے " مولانا کو تبلیغ کے کام سے اس قدر تعلق تھا کہ جب دیکھتے کہ ان کی ساری کوشش کے بعد جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader