Urdu book · تبلیغی تحریک

تمہید

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ ان کے گرد جمع ہوتے ہیں وہ زیادہ تر جاہل یا معمولی پڑھے لکھے لوگ ہیں تو سخت غمگین ہوتے، آخری بیماری میں ایک مرتبہ گہرے تاثر کے ساتھ فرمایا : "کاش علماء اس کام کو سنبھال لیتے اور پھر ہم چلے جاتے " لوگوں کے ساتھ رعایت کا یہ عالم تھا کہ ریل کے سفر میں ایک بار مغرب کے نوافل پڑھتے وقت ایک رفیق نے مسافروں کو سامنے سے گزرنے سے روکنے کا انتظام کیا۔ آپ نے منع فرمایا اور کہا کہ یہ حقوق عامہ ہیں، تم دوسرے کو گزرنے سے نہ روکو بلکہ سترہ کا انتظام کرو۔ کاندھلہ کے سفر میں ایک مرتبہ بھیڑ کی وجہ سے آپ سیکنڈ کلاس میں بیٹھ گئے۔ ٹکٹ تھرڈ کلاس کا تھا۔ خیال ہو اک ٹکٹ چک کرنے والا آئے گا تو ٹکٹ بنوالیا جائے گا۔ وہ آیا تو اس نے ایسی بے ڈھنگی گفتگو کی کہ مولانا کو غصہ آگیا۔ اور اس کو ڈانٹ دیا۔ ٹکٹ بنانے کے بعد وہ چلا گیا۔ تو مولانا انعام حسن صاحب نے جو اس وقت ساتھ تھے کہا کہ حضرت ، اس کو تو کہنے کا حق تھا۔ ان صاحب الحق مت لا (جس کا حق آتا ہو وہ کہنے سننے کا مجاز ہے)، مولانا نے فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور اگلے اسٹیشن پر اتر کر اس ٹی ٹی ای سے معذرت کی اور معافی مانگی۔ اسی کے ساتھ خدا سے تعلق اور آخرت کے استحضار کا یہ عالم تھا کہ نماز میں انہیں لذت ملتی۔ پہاڑی پر چڑھتے اور اوپر پہونچ کر جب تمام ساتھی تھک کر بیٹھ جاتے ، مولانا فوراً نماز کی نیت باندھ کر کھڑے ہوجاتے ۔ انتقال کے بعد جب غسل دیا گیا اور خوشبو لگائی جانے لگی تو ایک رفیق خاص کی زبان سے بے اختیار نکلا - "پیشانی پر اچھی طرح خوشبو لگاؤ، یہ گھٹنوں سجدہ میں ٹکی رہتی تھی ۔ آپ کی یہی عبادتیں ، قربانیاں، اور خلق اللہ سے آپ کی محبت تھی جس نے آپ کی سنت اور آپ کے کام میں وہ تاثیر پیدا کردی کہ آج جو لوگ تبلیغ کے کام کے پھیلاؤ اور اس کے حیرت انگیز نتائج دیکھتے ہیں، ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ مادی اصطلاحوں میں ان واقعات کی کس طرح تشریح کریں ۔ ایک مکتوب میں مولانا نے لکھا : "معاونت خداوندی عموماً دین میں اپنی جد و جہد کی مقدار کے ساتھ وابستہ ہیں۔ آدمی کسی مقصد کے لیے جتنا اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے اور تکالیف کو جھیلنے کے ذریعہ اپنے حالات، جوارح ، قلب اور قوتوں کی شکستگی اور تعب وانکسار کو پہونچتا ہے، اتنا ہی حق تعالیٰ کی رحمت کے نزول کا سبب ہوتا ہے۔ انا عند المنكسرة قلوبهم - کسی راہ کی ذلت کو اٹھائے بغیر اس کی عزت کو پہونچنا عادةً ہوتا نہیں " یہ الفاظ در حقیقت خود کہنے والے کی تصویر ہیں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ آپ نے خود کو دین کی راہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page