تمہید
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
دے۔ جب سمندروں اور جنگلوں پر ان کا حکم چلنے لگے۔ جب قومیں ان کی باج گزار ہوں اور زمین میں ہر طرف ان کا جھنڈا لہرانے لگے۔ یہ سب ممکن ہے اور اس امکان کا سر ا صرف اس واقعہ میں ہے کہ ہم "اللہ کو اپنائیں"۔ نصرت قرآن میں یہاں "نصرت" کے بارے میں قرآن کا نظریہ بیان کرنا مناسب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت جو بندوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک وہ جس کو قرآن میں "حیات طیبہ" کہا گیا ہے اور دوسری وہ جس کے لیے استخلاف اور تمکین فی الارض کے الفاظ آئے ہیں : دونوں آیتیں حسب ذیل ہیں : من عمل صالحا من ذكر او انثى وهو مومن جو نیک عمل کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ فلنحيينه حياة طيبة ولنجزينهم اجرهم مومن ہو تو ہم اس کو حیات طیبہ کی زندگی دیں گے ، اور باحسن ما كانوا يعملون (نحل ۔ ۹۷) ان کے عمل کا ان کو بہترین بدلہ دیں گے۔ دوسری آیت یہ ہے : وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصالحات جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیا، ان ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں اقتدار بخشے من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى گا جس طرح پچھلوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لیے وليد لنهم من بعد خوفهم امنا يعبدونني ان کے دین کو جما دے گا اور ان کے خوف کو امن سے لا يشركون بي شيئا ۔ بدل دے گا ۔ وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ نور ۔ ۵۵ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ "حیات طیبہ" سے مراد یہ ہے کہ شخصی طور پر ایک آدمی کو اچھی اور ستھری زندگی حاصل ہو۔ ایک مفسر کے الفاظ میں اس اچھی اور ستھری زندگی کے اجزاء اور مثال کے طور پر یہ ہیں ــــــــ "دنیا میں حلال روزی قناعت، غنائے قلبی، سکون و طمانیت، ذکر اللہ کی لذت، حب الہی کا مزہ، ادائے فرض عبودیت کی خوشی، کامیاب مستقبل کا تصور ، تعلق مع اللہ کی حلاوت، وغیرہ" یہ چیزیں جس کو ملتی ہیں اس کی زندگی تنگی اور فراخی ہر حال میں بہترین کیفیات سے مالا مال رہتی ہے۔ دوسری چیز استخلاف اور تمکین ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نصرت ہے جو اجتماع اور معاشرہ کے اوپر نازل ہوتی ہے۔ ایک مفسر کے الفاظ میں : "یہ خطاب فرمایا حضرت نے وقت کے لوگوں کو ۔ یعنی جو ان میں اعلیٰ درجے کے نیک اور رسول کے کامل متبع ہیں، رسول کے بعد ان کو زمین کی حکومت دے گا اور جو دین اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader