Urdu book · تبلیغی تحریک

تمہید

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کو پسند ہے ان کے ہاتھوں سے اس کو قائم کرے گا۔ گویا جیسا کہ لفظ استخلاف میں اشارہ ہے، وہ لوگ محض دنیوی بادشاہوں کی طرح نہ ہوں گے بلکہ پیغمبر کے جانشین ہو کر آسمانی بادشاہت کا اعلان کریں گے۔ اور دین حق کی بنیادیں جما دیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کو کفار کا خوف مرعوب نہ کرے گا۔ وہ کامل امن و اطمینان کے ساتھ اپنے پروردگار کی عبادت میں مشغول رہیں گے۔ اور دنیا میں امن و امان کا دور دورہ ہوگا۔ ان مقبول و معزز بندوں کی ممتاز نشان یہ ہوگی کہ وہ خالص خدائے واحد کی بندگی کریں گے جس میں ذرہ برابر شرک کی آمیزش نہ ہوگی۔ صرف ایک خدا کے غلام ہوں گے، اسی سے ڈریں گے، اسی سے امید رکھیں گے، اسی پر بھروسہ کریں گے۔ اسی کی رضا میں ان کا جینا اور مرنا ہوگا۔ کسی دوسری ہستی کا خوف و ہراس ان کے پاس نہ پھٹکے گا۔ نہ کسی دوسرے کی خوشی ناخوشی کی پروا رکھیں گے“۔ ان دونوں آیتوں میں جس شخصی اور اجتماعی نعمت کا ذکر ہے، ان کے دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے اور دونوں میں ان کے استحقاق کی ایک ہی مشترک بنیاد بتائی گئی ہے، اور وہ ہے— ایمان اور عمل صالح۔ گویا حیات طیبہ اور تمکین فی الارض کے حصول کا راز اللہ تعالیٰ کے حصول میں پوشیدہ ہے اگر ہم حقیقی معنوں میں مومن بن جائیں اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں تو وہ خدا جو مالک الملک ہے، جو حالات کو کنٹرول کرتا ہے اور واقعات عالم کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے، وہ ہمارے لیے ایسے اسباب و حالات پیدا کرے گا کہ ایک طرف ہم ذاتی طور پر دین کی حقیقت کو پالیں، اور دوسری طرف اگر ہمارا ایمان اور عمل صالح اجتماعی سطح پر پہنچ جائے تو خدا کی نصرت پورے اجتماعی دائرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور ہماری کوششیں ایسے موافق رخ اختیار کریں گی جن کے اجتماعی نتائج نکلنے لگیں۔ مولانا الیاس صاحب کے نزدیک یہ نصرت کا تصور تبلیغ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس سے مبلغ کو وہ قوت اور وہ سہارا حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر ماحول اور ہر قسم کے حالات میں دینی کام کا آغاز کر سکے اور ایک ناقابل شکست اعتماد کے ساتھ اپنے کام کو آخر تک جاری رکھے۔ یہ ایک طرف مبلغ کی قوت ہے، دوسری طرف وہ اس یقینی امید کا سرچشمہ بھی ہے کہ جس کے اوپر تبلیغ کی جارہی ہے اس کا دل بھی خدا ہی کی مٹھی میں ہے اور وہ اس کو زیر کر کے رہے گا۔ دل سے خطاب اکتوبر ۱۹۳۰ء کا واقعہ ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال اپنے لاہور کے مکان میں آرام کرسی پر نیم دراز ہیں۔ حصہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page