Urdu book · تبلیغی تحریک

تمہید

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمیں اسلام کے قدیم و جدید مبلغوں میں ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔ قدیم مبلغوں کا وار غیر مسلموں کے دلوں پر ہوتا تھا۔ وہ اپنی للہیت ، بے نفسی، خوش خلقی اور احسان و مروت کی جادو اثر اداؤں سے دلوں کو گرویدہ کرتے تھے۔ اور اس طرح ہزار ہا لوگ از خود بغیر کسی بحث وتکرار کے ان کے رنگ میں رنگ جاتے تھے۔ مگر جدید مبلغوں کا سارا زور دماغ کی تبدیلی پر صرف ہوتا ہے۔ وہ صداقت اسلام پر ایک دلیل دیتے ہیں۔ مقابلہ میں دوسری حجت غیر مسلم پیش کر دیتے ہیں۔ اس پر بحث و تکرار شروع ہو جاتی ہے۔ مسلمان اپنی بات پر اڑ جاتا ہے۔ غیر مسلم اپنے قول پر تن جاتا ہے۔ اس سے ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ اور ہدایت ختم ہو جاتی ہے “ ” مبلغین اسلام کو دلوں کو متاثر کرنے کے لیے نکلنا چاہیے یا دماغوں کے ؟ ڈاکٹر اقبال نے مزید تفصیل کرتے ہوئے کہا ” اس کے فیصلے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم فطرت کی روش کی پیروی کریں۔ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ فطرت اپنی فتوحات حاصل کرنے کے لیے اپنا تعلق ہمیشہ دلوں سے جوڑتی ہے۔ فطرت کھانے میں لذت پیدا کرتی ہے اور آپ اسے بے اختیار کھا جاتے ہیں ۔ اس وقت ایک بھی شخص دماغ سے یہ نہیں پوچھتا ۔ کیا یہ کھانا طبی لحاظ سے مفید ہوگا۔ آپ کہیں جا رہے ہوتے ہیں کہ ناگہاں پھولوں کی ایک خوشنما زمین اور لب جو کا ایک حسین نظارہ سامنے آجاتا ہے ، آپ وہاں بے اختیار بیٹھ جاتے ہیں، وہیں ٹھنڈی ہوا کا ایک دلنواز جھونکا آتا ہے اور آپ کو میٹھی نیند سلا دیتا ہے۔ اس وقت کوئی بھی شخص دماغ سے یہ نہیں پوچھتا کہ مجھے سونا چاہیے یا نہیں۔ مختصر یہ کہ فطرت ہر کام میں اسی طرح دلوں کو گرویدہ کرکے مطلب نکالتی ہے۔ وہ دماغوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتی ۔ اسلام چونکہ سر بسر نور فطرت ہے ۔ اس واسطے مبلغین اسلام کو چاہیے کہ اخلاق و محبت کی گیرائیوں سے دلوں کو اس طرح شکار کریں کہ ان میں سرکشی اور انکار کی سکت ہی باقی نہ رہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ مبلغ اسلام ، اسلامی کیرکٹر کی عظمت کے مالک ہوں ۔ تا کہ سرکش سے سرکش آدمی بھی ان کے سامنے اپنی گردن جھکا دیں۔ باقی رہے دائی مباحث اور عقلی تکرار ، تو اس سے نہ تو دل مطمئن ہو سکتے ہیں نہ منقلب ہو سکتے ہیں ۔ اور نہ فطرت رام ہو سکتی ہے “ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مولانا الیاس صاحب کی ذات اور ان کی پھیلائی ہوئی تبلیغ ، کم از کم مسلمانوں کے اندر کام کی حد تک ۔ ڈاکٹر اقبال کے اسی خواب کی تعبیر ہے۔ مولانا کی پوری زندگی اور تبلیغی تحریک کی پوری تاریخ اس طریق تبلیغ کی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ یہاں واقعات کو جمع کرنا مقصود نہیں ہے ۔ ہیں اصل مدعا کو واضح کرنے کے لیے صرف ایک مثال نقل کروں گا۔ ایک عربی مدرسہ کے بچہ طلبہ مولانا الیاس صاحب کے یہاں حاضری کے لیے نظام الدین گئے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page