تمہید
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
سامنے ہے اتنے میں ایک شخص داخل ہوتا ہے۔ علیک سلیک اور رسمی مزاج پرسی کے بعد گفتگو شروع ہوتی ہے۔ "آپ ایک کتاب لکھئے"، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا۔ "کیسی کتاب"، نووارد نے پوچھا۔ تحقیقات کرنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ہندوستان کے قصبات اور دیہات میں ہزار ہا غیر مسلم حلقہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان از خود مسلمان ہونے والوں سے ملے اور ان سے قبول اسلام کے اسباب دریافت کرکے ایک کتاب میں جمع کر دے تو اس سے تبلیغ اسلام کے مقصد کو بے حد تقویت حاصل ہوگی۔ "کیا صداقت اسلام کے متعلق پہلے دلائل ناکافی ہیں؟" "بہت کافی ہیں۔ مگر ایسا کرنے سے کئی ایسے عجیب اور جدید دلائل آپ کو ملیں گے کہ دنیا حیرت زدہ رہ جائے گی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دل اور دماغ کے کام کرنے کے طریقوں میں بہت فرق ہے۔ دماغ اکثر اوقات ہزار ہا مضبوط دلائل کو مسترد کر دیتا ہے اور ان کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا۔ لیکن دل اس کے برعکس بعض اوقات کمزور سے کمزور چیزوں سے اس قدر متاثر ہو جاتا ہے کہ صرف ایک ہی جھٹکے میں زندگی کا سارا نقشہ بدل جاتا ہے۔ قبول اسلام کا تعلق جس قدر دل سے ہے ، دماغ سے نہیں۔ اصل بات جو مبلغ کو معلوم ہونا چاہئے ، یہ ہے کہ وہ کون کون سے نشتر ہیں جن سے دل متاثر ہوا کرتے ہیں۔ کفار اور مشرکین کے انقلاب حیات کی ہزار ہا مثالیں تاریخ اسلام میں موجود ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اپنے حالات کے تحت ایک خیال یا ایک مذہب پر چٹان کی طرح قائم ہوتا ہے۔ ناگہاں غیب سے اس کے دل پر ایک نشتر چلتا ہے اور چشم زدن میں اس کی زندگی کی تمام گزری تاریخ بدل جاتی ہے۔ صداقت اسلام کے عقلی دلائل تو آپ کے پاس بہت ہیں۔ مگر قلبی دلائل کم ہیں۔ اگر آپ نو مسلموں کے پاس جائیں تو وہ بتائیں گے کہ اسلام کی وہ کون سی بے ساختہ ادا تھی جو ان کے دل کو بھاگئی۔ اگر ان کے بیانات ایک کتاب میں جمع کر دیئے جائیں تو مجھے یقین ہے کہ انقلاب حیات کی ایک بالکل نئی دنیا مبلغین کے سامنے آجائے گی اور انہیں اشاعت اسلام کے لیے ایسے نئے دلائل یا جدید ہتھیار مل جائیں گے جن سے اسلام کا موجودہ کتب خانہ خالی ہے؛" اس کے بعد مثال کے طور پر چند واقعات بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر اقبال نے مزید کہا: "قبول اسلام میں اصل چیز دل ہے۔ جب دل ایک تبدیلی پر رضامند ہو جاتا ہے اور کسی بات پر قرار پکڑ لیتا ہے تو پھر باقی تمام جسم اس کے سوا کچھ نہیں کرتا کہ وہ اس تبدیلی کی تائید کے لیے وقف ہو جائے۔"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader