Urdu book · تبلیغی تحریک

تمہید

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

مدرسہ کے ناظم صاحب کو قریب بلا کر کہا کہ آپ کے مدرسہ کے صدر مدرس صاحب کے نام ایک خط میں لکھا کرتا ہوں اس کو لکھیے۔ اس کے بعد انہیں کے ہاتھ سے اس مضمون کا خط لکھوایا کہ ” آپ کے مدرسہ سے کچھ لڑکے یہاں آئے۔ میں ان سے بہت خوش ہوں۔ وہ یہاں سے بہت کچھ لے کر جا رہے ہیں۔ میری خصوصی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اور آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان سے اعزاز و اکرام کا معاملہ فرمائیں۔ اس کے بعد ناظم صاحب سے کہا کہ آپ بھی اس پر اپنی تصدیق لکھیے۔ ناظم صاحب نے خاموشی سے تصدیق لکھ دی۔ اور اس کے بعد مولانا نے اپنے ہاتھ سے وہ خط لفافہ میں بند کر کے اپنے خاص آدمی کو دیا کہ جاو ڈاک میں ڈال آو ۔ اس واقعہ کا اتنا زبردست اثر ہوا کہ مدرسہ کا سب سے زیادہ شریر طالب علم وہاں کا سب سے زیادہ شریف اور سنجیدہ طالب علم بن گیا۔ اور تبلیغ کا باقاعدہ کارکن ہو گیا۔ لوگ اس سے پوچھتے کہ تمہاری زندگی میں اتنا زبردست تغیر کیسے ہو گیا تو وہ صرف ایک جملہ کہتا ہے ” مولانا الیاس نے مجھے چھین لیا“ جس شخصیت کو مدرسہ کا علم اور ناظم کے اختیارات قابو میں نہیں لاسکے تھے۔ اس کو اخلاق کی طاقت نے مسخر کر لیا۔ اس طرح کے واقعات سے مولانا الیاس صاحب کی زندگی اور تبلیغی تحریک کی تاریخ بھری ہوئی ہے دعا اور محبت اخلاق اور خیر خواہی نے ہزاروں قلوب کو جیتنے میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ تبلیغ کی زبان میں ایک عجیب تسخیری شان پیدا ہو گئی ہے۔ آپ تبلیغ کے کسی بھی جلسے میں شریک ہو کر اس کے مقررین کی تقریریں سنیے۔ آپ محسوس کریں گے کہ یہاں ایک ایسی زبان استعمال ہو رہی ہے جو ساری تحریکوں سے جدا ہے۔ اس زبان کے اجزا ہر ہیں ۔ سادگی، گھلاوٹ حقیقت رسی ، فطرت سے قریب تر استدلال ، روح کو مانوس کرنے والا انداز ، دل کو چھیدنے والے کلمات ۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تبلیغ کے کارکن ، ڈاکٹر اقبال کے الفاظ میں ، دل کی راہ سے چلتے ہیں۔ اس لیے خواہ ان کے یہاں عقلی ساز و سامان کم ہو مگر دل والی باتوں کی بہتات ہے اور یہ اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔ پروگرام مولانا الیاس صاحب نے اپنے کام کا جو ابتدائی خاکہ بنایا تھا ، اس کو وہ چھ نکات کی شکل میں بیان کرتے تھے : ۔ ا کلمہ اسلام کو دلوں میں بٹھانا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page