Urdu book · تبلیغی تحریک

تمہید

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۔ نماز کو اس کی حقیقی شکل میں قائم کرنا۔ ۳۔ دین کا علم سیکھنا۔ ۴۔ اکرام مسلم۔ ۵۔ تفریح وقت۔ یعنی دنیوی مشاغل سے اپنے وقت کو فارغ کرکے جماعت کی شکل میں باہر نکلنا ۶۔ تصحیح نیت اور اخلاص و احتساب۔ ان چھ نکات کو اگر مزید گھٹایا جائے تو اس کو تین پر تقسیم کیا جاسکता ہے۔ کلمہ توحید ، نماز اور تفریح وقت بقیہ تینوں اجزاء در اصل انہی چیزوں کے تقاضے ہیں جو ان کو صحیح طور پر اختیار کرنے کے بعد لازماً پیدا ہوتے ہیں۔ ان کو الگ سے بیان کرنا محض وضاحت کے لیے ہے نہ کہ تعیین کے لیے۔ مولانا الیاس صاحب کے اس دعوتی پروگرام کی تشریح مختلف الفاظ میں بیان کی جاسکتی ہے۔ خود مولانا اس کو ”حضور کے طریقہ کو زندہ کرنے کی کوشش“ کا نام دنیا پسند کرتے تھے اور اسی قسم کے الفاظ اور اصطلاحات میں اس کی وضاحت فرماتے تھے۔ بلاشبہ یہ الفاظ آپ کی دعوت کو اس کی اصل حیثیت میں ظاہر کرنے کے لیے موزوں ترین بلکہ محبوب ترین ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو جدید انداز میں سوچتے ہیں اور جنہیں کسی بات کی صداقت کا اسی وقت پورا اطمینان ہوتا ہے جب وہ اس کی تعبیر نفسیاتی، عمرانی یا فلسفیانہ الفاظ میں سن لیں ، ان کے ذوق کی رعایت سے بھی اس پروگرام کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ مولانا الیاس صاحب کی دعوت میں کلمہ توحید کو اولین اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کلمہ توحید کیا ہے۔ اس بات کا یقین کہ خدا ہی اس کائنات کا مرجع ومولیٰ ہے اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص ہیں جن کے ذریعہ مکمل صداقت کا ظہور ہوا ہے۔ ایک شخص جب لا إلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّه کہتا ہے تو گویا وہ اپنی اس اندرونی کیفیت کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے اس یقین کو اپنے دل میں جگہ دی ہے۔ اور وہ زندگی کے اس طریقہ پر آنے کا اعلان کر رہا ہے جو ایک طرف اس یقین کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے کہ خدا ہی حقیقتہً وہ وجود ہے جو انسان کے جذبات اور امنگوں کا مرکز ہے اور وہی وہ ہستی ہے جس پر اس کو سارے معاملات میں بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے اور دوسری طرف یہ اعلان گویا اس بات کا اظہار ہے کہ آدمی اس احساس سے سرشار ہے کہ وہ زندگی کا راستہ پا چکا ہے اور اسے معلوم ہو چکا ہے کہ سچائی کا سر چشمہ کیا ہے جس کی رہنمائی میں اسے اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے ۔ یہ یقین و اعتماد اور یہ شرح صدر ہی دراصل وہ چیز ہے جو سارے انقلابات کی بنیاد ہے۔ دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page