Urdu book · تبلیغی تحریک

تمہید

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

کا حساب ہوگا اور عذاب وثواب کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ سب باتیں اگر سچے دل سے ہوں تو زندگی کو بدل دینے کے لیے بالکل کافی ہے۔ نماز کا ایک اور اہم ترین پہلو وہ ہے جس کو ”ذکر“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے خدا کی یاد سے دل کا معمور رہنا اس طرح نماز گویا اس بات کے لیے آدمی کو تیار کرتی ہے کہ اس کے دل ودماغ ان صحیح ترین خیالات سے بھرے رہیں جو حقیقتاً کسی کے ذہن و قلب میں ہونے چاہئیں۔ یہ فکر اور جذبات کی اعلیٰ ترین تربیت ہے۔ یہ نماز کے وہ نتائج ہیں جو نفسیاتی اور سماجی پہلو رکھتے ہیں اور جن کے اثرات معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگرچہ نماز کی اصلی حقیقت تو یہ ہے کہ بندہ خدا کے آگے اپنا سر رکھ دے اور اس کا دل کہہ رہا ہو ــــــــ ”خدایا میں تیرا ہوگیا۔ تو بھی میرا ہوجا۔“ مولانا کی دعوت کا تیسرا جزء تفریح وقت ہے۔ اس کام کے لیے ”چلہ “ کا لفظ سن کر بعض لوگوں کو تو وحشت ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ صرف ایک اعتباری مدت ہے جو تربیت اور دعوت کی اس دو گونہ مہم کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ تفریح وقت دراصل اس حقیقت کا مظہر ہے کہ آدمی اپنے عقیدے میں اتنا بے تاب ہو چکا ہے کہ اس کے لیے اپنی مصر و فیتوں کو چھوڑ کر گھر سے باہر نکل پڑا ہے۔ ایمان کے ساتھ تبلیغ کا سودا بھی اس کے سر میں سما گیا ہے ، وہ اپنے درد کو سارے عالم کا درد بنا دینا چاہتا ہے۔ یہ کیفیت جب عملی شکل اختیار کرتی ہے تو تبلیغ کی اصطلاح میں اسی کا دوسرا نام وقت فارغ کرنا یا اس کی ایک مقرر مدت کا نام چلہ ہے۔ مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے گشت اور تبلیغی سفر کے طریقے پر جو اس قدر زور دیا اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر تبلیغی فائدوں کے علاوہ بہت سے تعلیمی تربیتی اور اصلاحی فائدے بھی پیچھے ہوئے ہیں۔ آدمی جب تبلیغ کی راہ میں دور دور کے سفر پر نکلتا ہے تو وہ دین سیکھتا ہے اپنی اخلاقی اصلاح کرتا ہے، لوگوں کی حالت دیکھ کر اپنے اندرونی کام کی اہمیت کا احساس پیدا کرتا ہے قربانیاں اور مشقتیں اس کے اندر وہ سوز اور تڑپ پیدا کرتی ہیں جس کے بعد ایک طرف وہ دین داری کی حقیقی لذت سے آشنا ہوتا ہے اور دوسری طرف اس کی زبان سے نکلے ہوئے تبلیغی کلمات میں جان پڑ جاتی ہے۔ لوگوں کو باہر نکالنا مولانا الیاس صاحب کے دینی طریق کار کی جان ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے سے یہ موقع ملتا ہے کہ لوگوں کو ان کے ماحول سے نکال کر ایک دینی ماحول میں پہونچا یا جائے اور اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page