تمہید
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد ان کے اوپر تبلیغ کی جائے تا کہ وہ خالی الذہن ہو کر دین کی باتیں سنیں اور مختلف ماحول میں جاکر اس کا اثر زائل کرنے کے بجائے مسلسل اس سے اثر لیتے رہیں۔ یہ طریقہ عملی طور پر کافی مفید ثابت ہوا ہے اور اس کے ایسے نتائج نکلے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے قریب سے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ تبلیغ کے لیے نکلنا، حدیث کے الفاظ میں، اپنے قدموں کو دین کی راہ میں گرد آلود کرنا ہے۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ جو قدم دین کی راہ میں گرد آلود ہوں، ان کو دوزخ کی آگ کبھی نہ چھوئے گی۔ سرکس میں بعض آدمی یہ کرتب دکھاتے ہیں کہ وہ آگ کے الاؤ میں مجسم کو دُپڑتے ہیں اور ان پر آگ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ لوگ اپنے جسم پر خاص طرح کی مالش کر لیتے ہیں۔ اس مالش کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آگ انہیں چھو نہیں سکتی۔ اسی طرح دین کی راہ کی گرد وہ چیز ہے جو دوزخ کی آگ کو بے اثر کر دینے والی ہے، جس کے اوپر یہ گرد پڑ گئی وہ گویا دوزخ کی آگ سے محفوظ ہو گیا۔ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ مولانا الیاس صاحب یا ان کے پیروؤں کے نزدیک تبلیغ کا گشت بذات خود وہ چیز ہے جس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس سے مراد کسی خاص گروہ کا گشت نہیں بلکہ دین کا گشت ہے۔ کسی کا گشت اسی وقت اس حدیث کا مصداق بنے گا جب کہ وہ حقیقتہ دین کا گشت ہو، اور جتنا زیادہ وہ دین کے لیے ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کا مصداق ہوگا اور دین سے اس کا تعلق جتنا کم ہوگا اتنا ہی اس کا مصداق ہو نا مشتبہ ہوتا چلا جائے گا۔ کسی خاص گروہ سے نسبت اس کو حدیث کا مصداق نہیں بنا سکتی۔ مولانا الیاس صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا : " ہمارے طریق کار میں دین کے واسطے جماعتوں کی شکل میں گھروں سے دور نکلنے کو بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعہ اپنے دائمی اور جامد ماحول سے نکل کر ایک نئے صالح اور متحرک ماحول میں آجاتا ہے۔ جس میں اس کے دینی جذبات کے نشوونما کا بہت کچھ سامان ہوتا ہے۔ نیز اس سفر وہ ہجرت کی وجہ سے جو طرح طرح کی تکلیفیں مشقتیں پیش آتی ہیں اور در بدر پھرنے میں جو ذیتیں اللہ کے لئے برداشت کرنی ہوتی ہیں ان کی وجہ سے اللہ کی رحمت خاص طور سے متوجہ ہو جاتی ہے" وسیع تصور مولانا الیاس صاحب نے اپنے زمانہ میں تبلیغ کا کام جس ڈھنگ سے چلایا تھا، اس کے متعلق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader