Urdu book · تبلیغی تحریک

حضرت جیؒ

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

وفات کے چند مہینے بعد مراد آباد میں ایک تبلیغی اجتماع ہو رہا تھا۔ تبلیغ کے لیے اوقات دینے کا رواج اس وقت تک میوات سے باہر بہت ہی کم ہوا تھا۔ فجر کی نماز کے بعد مولانا محمد یوسف صاحب نے تقریر کی اور اس کے بعد اوقات کا مطالبہ شروع ہوا۔ مگر بہت کم لوگوں نے اپنے نام لکھوائے۔ بجنور، چند پور اور رام پور جیسے قریبی مقامات کے لیے دس دس آدمیوں کی جماعتیں بھی نہیں بن سکی تھیں۔ کئی آدمی ترغیب دلانے میں مصروف تھے اور اپنا پورا زور لگا رہے تھے مگر ناموں میں بالکل اضافہ نہیں ہو رہا تھا۔ مولانا یوسف صاحب جو تقریر کرنے کے بعد مسجد کے اندرونی حصے میں چلے گئے تھے۔ لوگوں کی سرد مہری دیکھ کر یکایک اٹھے اور مائیکروفون ہاتھ میں لے کر فرمانا شروع کیا کہ "آج تم بجنور، چند پور رام پور جیسے قریبی مقامات کے لیے اور صرف تین تین دن کا وقت دینے کے لیے تیار نہیں ہو رہے ہو، ایک وقت آئے گا جب تم شام جاؤ گے، مصر جاؤ گے، عراق جاؤ گے۔ مگر اس وقت اجر گھٹ جائے گا۔ کیونکہ اس وقت اس کا عام رواج ہو چکا ہوگا"۔ مولانا محمد یوسف کی یہ بات جو سن ۱۹۲۵ء میں ایک خیالی بات معلوم ہوتی تھی ، آج واقعہ بن چکی ہے۔ تبلیغی جماعتوں کی نقل و حرکت آج نہ صرف شام و عرب بلکہ یورپ، جاپان ، امریکہ ، افریقہ اور اقصائے مشرق سے اقصائے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ رات دن کا کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جب تبلیغی جماعت کے وفود دنیا کے مختلف حصوں میں گشت نا کر رہے ہوں۔ دعوت میں انہماک مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جن لوگوں نے بھی قریب سے دیکھا ہے (اور ایسے لوگ بلاشبہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ہیں) وہ جانتے ہیں کہ مولانا کو اپنی دعوت میں کس قدر انہماک تھا۔ ایک صاحب جو لاہور میں نماز فجر کے بعد مولانا کی ایک تقریر میں شریک تھے، فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد مولانا نے تقریر شروع کی اور پورے تین گھنٹے تک انتہائی جوش و خروش کے ساتھ مجمع کو خطاب کرتے رہے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی لاوا پھوٹ پڑا ہے اور ماحول کو گرمائے نہیں بلکہ پگھلائے جا رہا ہے ۔ ۸ بجے خطاب ختم ہوا اور ناشتہ کا دستر خوان بچھا یا گیا۔ مولانا دستر خوان پر بیٹھتے ہی پھر گفتگو شروع فرمادی اور اس انداز سے الفاظ زبان سے نکلنے لگے کہ گفتگو کے زور، استدلال کی ندرت اور مطالب کی آمد کو دیکھ کر کوئی شخص یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو ابھی تین گھنٹے کے زور دار خطاب سے فارغ ہوا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا گویا ایک بالکل تازہ دم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page