غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی پیدا نہ ہو، اغیار میں دین کے لیے کشش پیدا نہیں ہو سکتی۔ ایک دفعہ فرمایا : جب تک یقین اور علم نبوت کے مطابق عبادات درست نہ ہو جائیں ، اخلاق نہیں آتے اور جب تک ہم میں اخلاق نہیں آئیں گے دوسروں میں دین نہیں پھیلے گا۔ اعتراض کے لیے کسی سے سلوک کرنا اخلاق نہیں ہے بلکہ کوئی کام بھی جب تک اس میں اخلاص نہ ہو اس کی قطعا کوئی قیمت نہیں ہے عمل اخلاص کے بغیر مردہ ہے اور دیکھو، گھروں، بازاروں، دفتروں، یہاں تک کہ مدارس و مساجد میں بھی ایسے مرداروں کے ڈھیر لگ رہے ہیں، اسی لیے آپ کم از کم پہلے مرحلہ میں اصلاح و تبلیغ کی زیادہ تر کوشش مسلمانوں پر صرف کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ اجتماعیت مولانا اجتماعیت کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ اپنے رفتار کو آپ کی ہدایت ہوتی تھی کہ "ہر کام کو اجتماعی کریں۔ حتی کہ سفر میں بھی یکجار ہنے کی بھر پور کوشش کریں، مگر اجتماعیت کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر عام تصور سے کچھ مختلف تھا۔ اس کو ہم شاید اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ آپ کے نزدیک اجتماعیت کی اہمیت تھی مگر جماعت بندی کی نہیں۔ فرماتے ہیں : "ہم نے اس کام کے لیے کوئی انجمن نہیں بنائی۔ نہ اس کا کوئی دفتر ہے نہ رجسٹر ہے نہ فنڈ ہے، یہ سارے ہی مسلمانوں کا کام ہے ہم نے مروجہ طریقہ پر کوئی علیحدہ جماعت بھی نہیں بنائی ہے۔ جس طرح مسجد میں نماز کے عمل پر مختلف طبقوں اور مشغولوں والے مسلمان آکر جڑ جاتے ہیں اور نماز سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھروں اور مشغولوں میں چلے جاتے ہیں اسی طرح ہم آپ سب سے کہتے ہیں کہ کچھ وقت کے لیے اپنے گھروں اور مشغولوں سے نکل کر یہ محنت اور مشق کیجیے۔ اور پھر اپنے گھروں اور مشغولوں میں آکر ان اصولوں کے مطابق لگ جائیے۔ آپ نے اگر یہ چیز محنت کر کے حاصل کر لی تو دنیا بھر کے سائنس والے آپ سے یہ طریقہ سیکھنے آئیں گے اور خدا نے چاہا تو آپ دنیا کے امام ہوں گے"۔ حکمت تبلیغ ایک تقریر میں تبلیغی کارکنوں کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا : خصوصی گشت میں اگر دیکھا جائے کہ وہ صاحب جن سے آپ ملنے گئے ہیں اس وقت توجہ سے بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو مناسب طریقہ سے جلدی سے بات ختم کر کے ان کے پاس سے اٹھ آنا چاہیے ۔ اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اگر دیکھا جائے کہ وہ صاحب متوجہ ہیں تو پھر پوری بات ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader