Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سامنے رکھنی چاہیئے ....... خصوصی گشت میں جب دینی اکابر کی خدمت میں حاضری ہو تو ان سے صرف دعا کی درخواست کی جائے اور ان کی توجہ دیکھی جائے تو کام کا کچھ ذکر کر دیا جائے " دعا مولانا کی تقریروں کا خاتمہ ہمیشہ دعا پر ہوتا تھا۔ لفظ " دعا " اپنے عام استعمالی مفہوم کے لحاظ سے شاید اس کی کیفیت کو ادا کرنے سے قاصر ہے جو مولانا کی دعائیں ہوئی تھی۔ مولانا کی دعوت کا اصل اور مغز اللہ سے استعانت اور دعا کا تعلق پیدا کرنا تھا۔ اور یہ چیز ان کی دعائیں اس طرح ابھرتی تھی کہ اس وقت وہ اپنی دعوت کا مجسم نمونہ بن جاتے تھے۔ ایک واقف حال کے الفاظ میں " جب دعا کرتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ : اس سے پہلے دعا کی ہے نہ اس کے بعد کریں گے۔ سب کچھ اسی دعا میں مانگ لینا ہے اور سب کچھ اسی دعا میں کہہ دینا ہے " مولانا کی دعا کی کیفیت ، اس کے مضامین ، اس کی آمد اور جوش وخروش اس کی رقت انگیزی اور اس کی تاثیر مولانا کے ان خصائص میں سے تھی جن کی مثال دور دور دیکھنے میں نہیں آتی۔ جب دعا کرتے ۔ حاضرین کا عجیب حال ہوتا۔ خاص طور پر جب اردو میں دعا کے الفاظ ادا فرماتے تو آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑتا ۔ دور دور سے رونے والوں کی ہچکیاں سننے میں آئیں " ایک صاحب جو ایک اجتماع میں شریک تھے ، لکھتے ہیں : " مولانا محمد یوسف صاحب نے دعا کی ۔ اپنے گناہوں کی توبہ، مغفرت ، آخرت کی سرخروئی ، دین کی عظمت۔ تمام انسانوں کے لیے ہدایت طلبی ، یہ سب باتیں اللہ سے طلب کی گئیں۔ دعاؤں مانگی گئی جس طرح مانگنے کا حق ہوتا ہے۔ کوئی آنکھ نہ تھی جو روتی نہ ہو کوئی زبان نہ تھی جو ہلی نہ ہو ، کوئی دل نہ تھا جو چھٹ پڑنے پر نہ آیا ہو۔ بس ایک ہی احساس تھا کہ اتنی زندگی جو گزری ناکامی میں گزری۔ میں ہی سراپا مصیبت ہوں۔ سب برائیاں مجھ ہی میں ہیں۔ اے اللہ ان سب کو کوتاہیوں کو معاف فرما اور میری زندگی کو اپنے راستے پر لگا دے " ایک دعا جو اتفاق سے ٹیپ ریکا رڈر کے ذریعہ محفوظ ہوگئی ہے ، اس کے چند الفاظ یہ ہیں : اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما ..... اے خدا ہماری محنت کے بگڑ جانے کے اس جرم عظیم کو معاف فرما جس جرم عظیم سے ہزاروں خرابیاں ہم میں پیدا ہوگئی ہیں۔ محمد صلّی اللہ علیہ وسلم جس محنت پر ڈال کر گئے اس محنت کو چھوڑ کر ہم ان محنتوں میں الجھ گئے سجن محنتوں سے وہ نکال کر گئے تھے ...... اے اللہ ہمیں عصیاں کے دریاؤں سے نکال دے اور ہمیں طاعت کی سڑکوں پر ڈال دے ...

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page