غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
" ہم دونوں نے آپس میں یہ طے کر لیا تھا کہ رات کے ابتدائی آدھے حصے میں ہم میں سے ایک مطالعہ کرے گا اور دوسرا سوئے گا ۔ اور آدھی رات ہو جانے پر مطالعہ کرنے والا چائے بنائے گا اور دوسرے ساتھی کو اٹھا کر اور اس کے ساتھ چائے پیا کر سو جائے گا اور اسی دوسرے کے ذمہ ہوگا کہ فجر کی جماعت کے لیے سونے والے ساتھی کو اٹھاتے ۔ ایک دن مولانا مرحوم شروع رات میں مطالعہ کرتے تھے اور میں سوتا تھا۔ اور دوسرے دن برعکس ترتیب رہتی تھی ۔ بستی نظام الدین کی زندگی میں آپ کا معمول تھا کہ روزانہ ایک خاص وقت میں آپ اپنے مطالعہ کے کمرے میں چلے جاتے اور وہاں مقرر وقت تک مطالعہ اور تحریر کا سلسلہ جاری رہتا۔ آخر میں ایک واقعہ پر اس گفتگو کو ختم کروں گا۔ ندوہ کے ایک عالم نے مجھ سے بیان کیا ایک جلسہ میں مولانایوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر ہو رہی تھی۔ پورے مجمع پر مسحورکن خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ مقرر حکمت و معرفت کی بارش برسارہا تھا ۔ جناب مولانا سید ابوالحسن علی ندوی بھی اس جلسہ میں موجود تھے ۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک موقع پر جب کہ تقریر اپنے عروج پر تھی ۔ مولانا کی زبان سے بے اختیار نکلا ۔ " اگر میں قسم کھاؤں تو میں حانث نہیں ہوں گا کہ اس وقت پورے عالم اسلام میں اس درجہ یقین و ایمان کے ساتھ بولنے والا کوئی دوسرا شخص پروٹسٹنٹ ازم میں اس دوسری روایت کے آثار موجود نہیں ہے ۔ (۵۱۳۸۶ ھ)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader