Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

کی طرف سے ایک علم عطا ہوا ہے (جو مدرسہ اور کتب خانہ کا علم نہیں ہے)، اور اسی کا نام حکمت ہے اور قوت بیان مزید برآں ہے۔ بعض قریبی لوگوں کا اندازہ ہے کہ آخر میں مجموعی طور پر آٹھ آٹھ گھنٹے تک بولنے کی نوبت آتی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ سننے والے خواہ وہ جاہل ہوں یا عالم آپ کی تقریریں سننے سے گھبراتے نہیں تھے بلکہ پوری تقریر کے دوران ہمہ تن گوش بنے رہتے تھے۔ اور ایک کثیر تعداد کا یہ عالم ہوتا تھا کہ شدت پسندی میں وہ کاغذ قلم لے کر اس کو دوران تقریر ہی میں نوٹ کرنا شروع کر دیتے تھے۔ آپ تقریر پر تقریر کرتے رہتے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر بعد کی تقریر میں سننے والوں کو یہ اندازہ ہوتا کہ بولنے والا اسی وقت بولنے کھڑا ہوا ہے اور اس سے پہلے اس کو اپنے خیالات وجنبات کے اظہار کا موقع نہیں ملتا تھا۔ اس موقع پر اپنا دل کھول کر رکھ دینا چاہتا ہے“ ایک صاحب مولانا کے ایک سفر کی روداد بیان کرتے ہیں۔ ہر جگہ جہاں آپ کا جانا ہوا ”صبح و شام گھنٹوں خطاب فرماتے رہے۔ بولتے بولتے گلے میں سوجن پڑ گئی۔ ڈاکٹروں نے اصرار سے مشورہ دیا کہ کچھ دنوں کے لیے بولنا چھوڑ دیا جائے۔ مگر حضرت مولانا اس پر آمادہ نہیں ہوئے۔ حسب عادت تقریروں اور گفتگوؤں کا سلسلہ جاری رہا اور مرض ترقی کرتا گیا ۔ تقریر کا انداز بھی عجیب تھا۔ بات کرتے کرتے آستین چڑھاتے پھر اتارتے۔ بیٹھ کر تقریر شروع کرتے اور پھر درمیان میں کھڑے ہو جاتے۔ کبھی درمیان کلام میں ایک آہ بھرتے جو درد اثر میں ڈوبی ہوئی عجیب کیفیت پیدا کردیتی۔ ایک صاحب فرماتے ہیں : ” حضرت جی گھنٹوں مسلسل بیان کرتے رہتے تھے بندہ نے خود ایک دن میں حضرت کے پانچ بیان سنے ہیں۔ جن میں سے ایک ساڑھے پانچ گھنٹے کا تھا۔ یہاں علوم اندر سے پھوٹ کر نکلتے تھے۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ آپ نہیں کہہ رہے ہیں کہلوایا جارہا ہے۔ علوم الہیہ کا فیضان موسلا دھار بارش کی طرح حضرت کے قلب پر ہوتا تھا۔“ ذوق علم آپ کے علمی ذوق کے بارے میں آپ کے ایک قریبی واقف کار روایت کرتے ہیں کہ ایک بار مولانا نے فرمایا۔ ” میں نے سوا ایک دفعہ کے بازار سے ایک آنہ کی بھی مٹھائی خرید کر نہیں کھانی یہ وجہ نہ تھی کہ میرے پاس پیسے نہ ہوتے تھے۔ بلکہ بات یہ تھی کہ میں نے پیسے جمع کرنے کا ایک ڈبہ بنایا تھا اور اس میں جو پیسے مجھ کو ملتے ڈال دیا کرتا تاکہ ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی کتابیں خریدوں گا تعلیم کے زمانے میں مولانا انعام الحسن صاحب آپ کے ساتھی اور ہم سبق تھے۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page