Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

امتِ پنا یہ مولانا محمد یوسف صاحب کی ایک تقریر ہے جو انہوں نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے ۳۰ مارچ ۱۹۶۵ء کو رائے ونڈ ( پاکستان ) میں کی تھی ۔ دیکھو میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ ساری رات مجھے نیند نہیں آئی ۔ اس کے باوجود ضروری سمجھ کے بول رہا ہوں ۔ جو سمجھ کے عمل کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے چکائے گا ورنہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے گا ۔ یہ امت بڑی مشقت سے بنی ہے ۔ اس کو امت بنانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرامؓ نے بڑی مشقتیں اٹھائی ہیں ۔ اور ان کے دشمنوں یہود و نصاریٰ نے ہمیشہ اس کی کوششیں کی ہیں کہ مسلمان ایک امت نہ رہیں بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوں ۔ اب مسلمان اپنا امت پناہ کو چکے ہیں ، جب تک یہ امت بنے ہوئے تھے چند لاکھ ساری دنیا پر بھاری تھے ۔ ایک پکا مکان نہیں تھا ۔ مسجد تک پکی نہیں تھی ۔ مسجد میں چراغ تک نہیں جلتا تھا ۔ مسجد نبوی میں ہجرت کے نویں سال چراغ جلا ہے ۔ سب سے پہلا چراغ جلانے والے تمیم داریؓ ہیں ۔ وہ ۵ھ میں اسلام لائے ہیں اور ۵ھ تک قریب قریب سارا عرب اسلام میں داخل ہو چکا تھا ۔ مختلف قو میں ، مختلف زبانیں ، مختلف قبیلے ایک امت بن چکے تھے تو جب یہ سب کچھ ہو گیا اس وقت مسجد نبوی میں چراغ جلا ۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو نور ہدایت لے کر تشریف لائے تھے وہ پورے عرب میں بلکہ اس کے باہر بھی پھیل چکا تھا اور امت بن چکی تھی ۔ پھر یہ امت دنیا میں اٹھٹی ۔ جدھر کو نکلی ملک کے ملک ہیر وں میں گرے ۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page