Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

امت اس طرح بنی تھی کہ ان کا کوئی آدمی اپنے خاندان ، اپنی برادری، اپنی پارٹی، اپنی قوم، اپنے وطن، اپنی زبان کا حامی نہ تھا۔ مال و جائیداد اور بیوی بچوں کی طرف دیکھنے والا بھی نہ تھا۔ بلکہ ہر آدمی صرف یہ دیکھتا تھا کہ اللہ ورسول کیا فرماتے ہیں ۔ امت جب ہی بنتی ہے جب اللہ ورسول کے حکم کے مقابلے میں سارے رشتے اور سارے تعلقات کٹ جائیں ۔ جب مسلمان ایک امت تھے تو ایک مسلمان کے قتل ہو جانے سے ساری امت ہل جاتی تھی۔ اب ہزاروں لاکھوں کے گلے کٹتے ہیں اور کانوں پر جوں نہیں رینگتی ۔ امت کسی ایک قوم اور ایک علاقے کے رہنے والوں کا نام نہیں ہے بلکہ سیکڑوں ہزاروں قوموں اور علاقوں سے جڑ کر امت بنتی ہے۔ جو کوئی کسی ایک قوم یا ایک علاقہ کو اپنا سمجھتا ہے اور دوسروں کو غیر سمجھتا ہے وہ امت کو ذبیح کرتا ہے اور اس کے ٹکڑے کرتا ہے اور حضور کی اور صحابہ کی محنتوں پر پانی پھیرتا ہے۔ امت کو ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پہلے خود ہم نے ذبح کیا ہے ۔ یہود و نصاریٰ نے تو اس کے بعد کٹی کٹائی امت کو کاٹا ہے۔ اگر مسلمان پھر امت بن جائیں تو دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی ان کا بال بیکا نہیں کر سکتیں ۔ اہم ہم اور امراکٹ ان کو ختم نہیں کر سکیں گے ۔ لیکن اگر وہ قومی اور علاقائی عصبیتوں کی وجہ سے باہم امت کے ٹکڑے کرتے رہے تو خدا کی قسم تمہارے ہتھیار تمہاری فوجیں تم کو نہیں بچا سکیں گی ۔ مسلمان ساری دنیا میں اس لیے پیٹ رہا اور مر رہا ہے کہ اس نے امت پنے کو ختم کرکے حضور کی قربانی پر پانی پھیر دیا ہے ۔ میں یہ دل کے غم کی باتیں کہہ رہا ہوں ۔ ساری تباہی اسی وجہ سے ہے کہ امت امت نہ رہی ۔ بلکہ یہ بھی بھول گئے کہ امت کیا ہے ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح امت بنائی تھی ۔ امت ہونے کے لیے اور مسلمانوں کے ساتھ خدائی مدد ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ مسلمانوں میں نماز ہو ، ذکر ہو، مدرسہ ہو، مدرسہ کی تعلیم ہو ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قاتل ابن ملجم ایسا نمازی اور ایسا ذاکر تھا کہ جب اس کو قتل کرتے وقت عصر میں بھرے لوگوں نے اس کی زبان کاٹنی چاہی تو اس نے کہا سب کچھ کر لو لیکن میری زبان مت کاٹو تا کہ زندگی کے آخری سانس تک میں اس سے اللہ کا ذکر کرتا رہوں۔ اس کے باوجود حضور نے فرمایا کہ علی کا قاتل میری امت کا سب سے زیادہ شقی اور بدبخت ترین آدمی ہوگا۔ اور مدرسہ کی تعلیم تو ابو الفضل اور فیضی نے بھی حاصل کی تھی اور ایسی حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page