غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
موجود ہے اور وہ ہماری ہر بات سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ ہم امت بنانے کی بات کر رہے ہیں یا امت پناہ توڑنے کی۔ ہم کسی کی غیبت اور چغل خوری تو نہیں کر رہے۔ کسی کے خلاف سازش تو نہیں کر رہے۔ یہ امت حضورﷺ کے خون اور فاقوں سے بنی تھی۔ اب ہم اپنی معمولی معمولی باتوں پر امت کو توڑ رہے ہیں۔ یاد رکھو نماز جمعہ چھوڑنے پر بھی اتنی پچھ نہیں ہوگی جتنی امت کو توڑنے پر ہوگی۔ اگر مسلمانوں میں امت پناہ آجائے تو وہ دنیا میں ہرگز ذلیل نہ ہوں گے، روس اور امریکہ کی طاقتیں بھی ان کے سامنے جھکیں گی اور امت پناہ جب آئے گا جب " اذلة على المومنين “ پر مسلمانوں کا عمل ہو۔ یعنی ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے مقابلہ میں چھوٹا بننے اور ذلت و تواضع اختیار کرنے کو اپنائے۔ تبلیغ میں اسی کی مشق کرنی ہے۔ جب مسلمانوں میں ”اذلة على المومنين“ والی صفت آجائے گی تو وہ دنیا میں ”اعزة على الكفرين “ یعنی کافروں کے مقابلہ میں زبردست اور غالب ضرور ہوں گے چاہے وہ کافر یورپ کے ہوں یا ایشیا کے۔ میرے بھائیو دوستو ! اللہ و رسول نے ان باتوں سے شدت اور سختی سے منع فرمایا ہے جن سے دلوں میں فرق پڑے اور پھوٹ کا خطرہ بھی ہو، دو دو چار چار الگ کانا پھوسی کریں اس سے شیطان دلوں میں بدگمانی پیدا کر سکتا ہے اس سے منع فرمایا گیا اور اس کو شیطانی کام بتایا گیا۔ " انما النجوى من الشيطن ليحزن الذين امنوا وليس بضارهم شيئاً الا باذْنِ اللهِ “ اسی طرح تحقیر اور استہزا اور تسخر سے منع فرمایا گیا۔ " لا يسخر قوم من قوم عسى ان يكونوا خيراً منهم “ اس سے بھی منع فرمایا گیا کہ دوسرے کی کوئی برائی جو معلوم نہ ہو اس کو تجسس کرکے معلوم کیا جائے اور جو برائی کسی کی معلوم ہو گئی ہو اس کو دوسروں کے سامنے ذکر کرنے سے منع فرمایا گیا، اور غیبت کو حرام کیا گیا۔ غیبت اس کا نام ہے کہ جو واقعی برائی کسی کی معلوم ہو اس کا ذکر کسی سے کیا جائے۔ ولا تجسسوا ولا يغتب بعضكم بعضا “ یہ تحقیر اور تمسخر اور تجسس اور غیبت سب وہ چیزیں ہیں جو آپس میں تفرقہ پیدا کر کے امت پینے کو توڑتی ہیں، ان سب کو حرام قرار دیا گیا اور ایک دوسرے کا اکرام واحترام کرنا جس سے امت جڑتی بنتی ہے اس کی تاکید فرمائی گئی اور دوسروں سے اپنا اکرام چاہئے سے منع کیا گیا، کیونکہ اس سے امت بنتی نہیں بگڑتی ہے ۔ امت جب بنے گی جب ہر آدمی یہ طے کرے کہ میں عزت کے قابل نہیں ہوں اس لیے مجھے عزت لینی نہیں بلکہ دوسروں کی عزت کرنی ہے اور دوسرے سب لوگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader