Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

عبادت یا خلافت سوال: آج کل مسلمانوں میں دو قسم کے مذہبی فکر چل رہے ہیں۔ ایک گروہ حکومت پر زور دیتا ہے، دوسرا گروہ عبادت پر۔ اس سلسلے میں آپ کا خیال کیا ہے۔ جواب: ہمارا خیال ہے کہ دونوں قسم کے گروہوں میں جو فرق ہے وہ دین اور بے دینی کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ تصور دین یا تعبیر دین کا فرق ہے۔ وہ فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ ایک گروہ اپنے نصب العین کا تصور آیت خلافت سے اخذ کرتا ہے اور دوسرا گروہ آیت عبادت سے۔ ایک کے نزدیک انّی جاعل فی الارض خليفة (اللہ نے کہا میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں) وہ قرآنی آیت ہے جس سے اسلام کا نصب العین معلوم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے کے نزدیک جس آیت سے اسلامی نصب العین اخذ ہوتا ہے وہ یہ آیت ہے : وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون میں نے جن وانس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں خلاقتی فکر کے مطابق زمین خدا کی سلطنت کا ایک حصہ ہے اور اس حصہ پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب سلطنت مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کے اوپر خدا کے قوانین کا نفاذ کرے۔ دوسری طرف عبادتی فکر کے سوچنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا کا عبد (بندہ) ہے۔ اس کے لئے اپنے رب کی رضا مندی حاصل کرنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کرے، وہ اس کے آگے اپنے آپ کو جھکادے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خلافتتی فکر رکھنے والے عبادت کو نہیں مانتے۔ یا عبادتی فکر رکھنے والوں کے یہاں "خلافت" کا کوئی مقام نہیں ہے۔ یہ فرق صرف اس معنی میں ہے کہ کوئی گروہ دینی تعلیمات کے مجموعہ کو کس رخ سے دیکھتا ہے۔ قرآن کو اگر کوئی شخص آیات قتال کے ذریعہ سمجھنا چاہے تو قرآن اس کو کتاب جنگ نظر آ سکتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن کو جو شخص آیات خشیت کی روشنی میں دیکھے، اس کو قرآن کتاب تقویٰ نظر آئے گا۔ ایسا ہی کچھ فرق مذکورہ دونوں گروہوں میں پایا جاتا ہے۔ خلافتتی گروہ خلافت سے جل کر عبادت کو لیتا ہے۔ وہ عبادت کی معنویت کو اسی وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ وہ اس کو حکومت و سیاست کے خانہ میں بٹھائے۔ اس کے برعکس دوسرا گروہ عبادت کی نگاہ سے خلافت کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک عبادت بجاے خود مقصود ہے اور بقیہ تمام چیزیں اسی وقت با معنی ہیں جبکہ وہ عبادت کے سرچشمہ سے نکلی ہوں۔ اس فرق کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خود خلافت و عبادت کے تصور میں دونوں گروہوں کے درمیان فرق ہو جاتا ہے۔ خلافتتی گروہ کے نزدیک حکومت اسلامی کا قیام دین کا اکمل ظہور ہے اور عبادت کی حیثیت یہ ہے کہ وہ حکومت اسلامی کے داعیوں یا کارکنوں کی تربیت و اصلاح کا ذریعہ ہے۔ جب کہ عبادتی گروہ کا ذہن یہ ہے کہ اللہ کا حقیقی عبادت گزار بناہی مکمل مسلمان اور مکمل دین دار بنتا ہے۔ جہاں تک خلافت یا حکومت کا تعلق ہے، اس کی حیثیت ایک دنیوی ذمہ داری کی ہے جو خاص حالات میں مسلمانوں سے مطلوب ہوتی ہے۔ نیز یہ ذمہ داری بھی، بہت سی دوسری شرعی ذمہ داریوں کی طرح، مشروط ذمہ داری ہے اور کبھی عائد ہوتی ہے اور کبھی عائد نہیں ہوتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page