غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر مسلموں میں تبلیغ مولانا محمد الیاس صاحب کا ایک خط محفوظ ہے ۔ موصوف نے یہ خط مولانا محمد علی جوہر کے نام لکھا تھا ۔ یہ خط مولانا محمد علی کی روانگی لندن سے کچھ پہلے لکھا گیا تھا جس کے بعد ان کی ہندوستان واپسی نہ ہوسکی ۔ اس خط کے بعد دوبارہ مولانا الیاس صاحب اور مولانا محمد علی کی ملاقات نہیں ہوئی ۔ یہ خط یہاں مکمل نقل کیا جا رہا ہے ۔ مخدومی و مکرمی زید مکارمکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آن مخدوم کی قابلیت اور ذکاوت اور قدرت علی الکلام و ہمدردی اسلام کا اس خاکسار کے دل پر نے آج سے سکہ جمائے ہوئے ہے بلکہ کامرئیڈ کی تیز تابانی کے وقت سے جو ہر شناس اور قدر دان ہے۔ اور شیخ الكل یعنی سیدی و مولائی حضرت شیخ الہند کے زمانہ نیاز مندی اور آمد و رفت سامی کے برتاؤ نے اس خیال کو اور مضاعف اور مدلل کر دیا تھا ہمیشہ سے اس پر زور انجن کے اسلام کی کوئی بڑی گاڑی کھینچنے کی طبیعت متمنی اور جو یارہی ۔ کچھ زمانہ سے خاکسار کے ذہن نارسا میں یہ مضمون آرہا ہے کہ کوئی قابل اور اہل شخص خاص اور معتدل طریقہ سے فطری اور اوسط الملل مذہب یعنی اسلام کی طرف اس یورپین قوم کو زور و قوت اور پوری توجہ اور کوشش کے ساتھ دعوت الی الحق کرے تو اس کے لیے آپ کے سوا کسی پر نظر نہیں جمتی ۔ اس وقت یہ قوم برسر اقتدار ہے اور ایک مدت سے حکمرانی کر رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عادت مع اخلق پر نظر کرتے ہوئے یہ بات خیال میں آتی ہے اہل حکومت لوگوں کو دعوت الی الحق کیے جانے پر مدعوين کی دو راہیں ہوتی ہیں ۔ دعوت الی الحق کو قبول کر کے فوج دارین اور دین خداوندی اور مذہب آسمانی کی ترو تازگی اور آب و تابانى اور یا اس دین سے استنکاف اور اعراض کر کے استیصال وبربادی اور ہمیشہ کے لیے خسران و نامرادی ۔ عرض کوئی سے ایک معاملہ کا ان کے ساتھ متعین ہو جانا اسی دعوت الی الحق کی قبولیت اور اعراز اور رد و انکار پر مبنی ہے ۔ اس مدعا کے لیے یہ پہلا خط لکھ رہا ہوں خدا کرے یہ تخم بار آور ہو اور اس مراسلت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader