تبلیغی مزاج
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
تبلیغی مزاج مارچ ۱۹۸۵ء میں راقم الحروف کو الجامعة الاسلامیہ کی دعوت پر مدینہ منورہ جانے کا اتفاق ہوا ۔ وہاں کے دوران قیام میں مختلف اخبارات ورسائل کے نمائندوں نے انٹرویویے انہی میں سے ایک الجزائر کے دہ نوجوان تھے جن کا نام عبد القادر اندھاری تھا ۔ ان کی شرعی داڑھی اور ان کے چہرے پر اسلامی سادگی کے آثار نے مجھے کافی متاثر کیا تاہم اس سے زیادہ اثر انگیز ان کا دہ رویہ تھا جو انہوں نے انٹرویو کے درمیان اختیار کیا۔ عبد القادر اندھاری اخبار المدینہ کے نمائندہ تھے ۔ انہوں نے ایک کاغذ پر بہت سے سوالات عربی میں لکھ رکھے تھے ۔ میں نے ان کے اکثر سوالات کے جوابات دیے ۔ اور کچھ اختلافی نوعیت کے سوالات کا جواب دینے سے معذرت ظاہر کی ۔ خلاف معمول میں نے دیکھا کہ وہ میرے جوابات خاموشی سے سن لیتے ہیں۔ میرے جوابات کے بعد دوبارہ نئی نئی شق نکال کر بحث نہیں کرتے ۔ میری ہر معذرت کو فوراً قبول کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں مجھے ان کا یہ مزاج بہت پسند آیا۔ کیونکہ یہی دینی مزاج ہے ۔ ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو قیل وقال سے اور زیادہ سوالات کرنے سے منع فرمایا ۔ (نھانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كثرة السؤال وعن كثرة القيل والقال) عبدالقادر جزائری کے اس مزاج کا راز ان کی تبلیغی جماعت سے وابستگی ہے وہ تبلیغی جماعت سے متاثر ہیں۔ اور کسی جماعت کے ساتھ نظام الدین (دہلی) بھی جاچکے ہیں ۔ مجھے ملاقاتوں کے دوران بار بار یہ تجربہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کے افراد بحث وتکرار میں نہیں الجھتے ۔ وہ اختلافی امور میں شدید نہیں ہوتے ۔ یہ ان کے دینی مزاج کا ثبوت ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسلام کی سیاسی تعبیرات سے متاثر ہیں۔ ان سے گفتگو کیجئے تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا انہوں نے نزاع برپا کرنے کا نام دین سمجھ لیا ہے ۔ ان کو سب سے زیادہ دلچسپی اختلافی امور سے ہوتی ہے۔ کوئی بھی جواب انہیں چپ نہیں کرتا ۔ ہر جواب کے بعد دہ ایک نیا لفظی شوشہ نکال دیتے ہیں تاکہ اپنی اختلافی بحث کو جاری رکھ سکیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader