کام کا طریقہ
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
کام کا طریقہ تبلیغ میں یہ طریقہ ہے کہ افراد کو جماعت کی صورت میں تشکیل دے کر باہر نکالا جاتا ہے۔ مقامی طور پر محلہ دارگشت کے لیے یا بیرونی علاقوں میں تبلیغ اور تربیت کے لیے۔ ان افراد کو جن باتوں کی تلقین کی جاتی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی بولنے کی ضرورت ہو تو ہمیشہ ایک آدمی بولے۔ سارے لوگ بولنے نہ لگیں۔ تاہم اس کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ ایک آدمی بولے اور باقی تمام لوگ خاموش اور بے کار رہیں۔ نہیں ۔ ان چپ رہنے والوں کو بھی تبلیغ ایک کام دیتی ہے ، یہ کہ وہ خاموشی کے ساتھ دعا میں مشغول ہو جائیں ۔ وہ دل ہی دل میں متکلم یا مقرر کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کی زبان میں قوت دے اور اس سے وہ بات کہلائے جو اس کی مرضی ہو کہ کہا جائے ۔ یہ عین اسلامی طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانہ میں یہی طریقہ تھا کہ ایک اہل شخص بولتا تھا اور بقیہ حاضرین اس کے حق میں دعا کرتے تھے ۔ جب تک یہ نظام رہا، امت کا معاملہ درست رہا۔ جب سارے لوگ بولنے لگے تو امت کا معاملہ بگڑ گیا۔ تبلیغ کی یہ روح اس سے متاثر ہونے والے افراد میں ہر معاملہ میں ظاہر ہوتی ہے ۔ ایک مرتبہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تھا۔ صبح ۸ بجے کا وقت تھا ۔ میں نے دیکھا کہ جوق در جوق طلبہ مسجد میں آرہے ہیں ۔ میں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ وہ صلوٰۃ الحاجہ پڑھنے کے لیے آرہے ہیں ۔ یہ امتحان کا زمانہ تھا ۔ یہ طلبہ امتحان میں جانے سے پہلے مسجد میں آ رہے تھے تاکہ دو رکعت صلوٰۃ الحاجہ پڑھ کر دعا کریں اور پھر امتحان دینے کے لیے امتحان ہال میں جائیں۔ مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھتا ہے ۔ وہ اپنے آپ پر بھروسہ کرنے کے بجائے خدا پر بھروسہ کرتا ہے ۔ لوگ بولنے کو کام سمجھتے ہیں۔ مومن وہ ہے جو نہ بولنے کو بھی کام سمجھے ۔ لوگ اپنے قوتِ بازو پر اعتماد کرتے ہیں ، مومن وہ ہے جو خدا کے بازو کو اس طرح دیکھے کہ اپنا بازو اس کو یاد نہ رہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader