Urdu book · تبلیغی تحریک

دوست کی خاطر

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

رہیں گے۔ اس کے بعد حکمراں کو یہ ضرورت نہیں کہ وہ باقاعدہ طور پر اس کے لئے ہدایت نامہ جاری کرے۔ یہ معاملہ جس کا تجربہ ہندوستان کے ایم بی صاحبان کو ایک ملک کے حکمراں کے بارے میں ہوا، یہی زیادہ بڑے پیمانے پر کائنات کے حکمراں کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ اگر آپ مالک کائنات کے کام میں لگے ہوئے ہوں ۔ اگر زمین و آسمان کے بادشاہ سے آپ کی ملاقات جاری ہو تو آپ کا معاملہ عام معاملہ نہیں رہتا بلکہ خاص معاملہ بن جاتا ہے۔ خدا میں مصروف ہونے کی وجہ سے جو کام آپ بطور خود نہ کر سکے وہ خدا کی دوسری مخلوقات آپ کی طرف سے انجام دے دیں گی۔ جہاں عام لوگوں کے کام بگڑتے ہیں وہاں آپ کے کام بن جائیں گے۔ جب لوگ مواقع کھو دیتے ہیں اس وقت مواقع خود انتظار کریں گے کہ آپ آئیں اور ان کو استعمال کریں۔ تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ درمیان میں نماز کا وقت آگیا۔ لوگوں کی رائے ہوئی کہ باقاعدہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔ چنانچہ اگلے اسٹیشن پر ٹرین کھڑی ہوئی تو پوری جماعت پلیٹ فارم پر اتر گئی۔ کسی نے کہا کہ یہاں ٹرین صرف دو منٹ رکتی ہے۔ آپ لوگ نماز پڑھتے رہیں گے اور گاڑی چلی جائے گی۔ تا قافلہ کے امیر نے کہا کہ ہم اللہ کا کام کرنے جا رہے ہیں اور گاڑی بھی اللہ کی ہے۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ہم کو لئے بغیر آگے چلی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ لوگوں نے پورے اطمینان کے ساتھ پلیٹ فارم پر باقاعدہ نماز ادا کی۔ گاڑی کے انجن نے صرف اس وقت سیٹی دی جب کہ وہ لوگ نماز سے فارغ ہو کر اپنے ڈبے میں واپس آچکے تھے۔ ایک ملک کے صدر کے دوستوں کے لئے اگر ہوائی جہاز رک سکتا ہے تو ہمیں تعجب نہیں کرنا چاہئے اگر خدا کے دوستوں کی خاطر زمین و آسمان کی گردشیں رک جائیں۔ بشرطیکہ زمین پر یہ واقعہ رونما ہو کہ خدا کے کچھ بندے خدا کو اپنا دوست اور اپنا کارساز بنالیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے کیس کو خدا کا کیس نہیں بنایا۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں قومی جذبات کے تحت کر رہے ہیں نہ کہ ربانی جذبات کے تحت۔ ان کی تحریکیں اور ان کے لیڈروں کی سرگرمیاں بتاتی ہیں کہ ان کا کیس ابھی تک صرف مادی مفادات اور قومی مسائل کا کیس ہے۔ وہ خدا کے لئے نہیں بلکہ غیر خدا کے لئے سرگرم ہیں۔ ایسی حالت میں یہی ہو سکتا ہے کہ وہ قوموں سے بچھڑ جائیں۔ ان کا ” جہاز “ ان کو ساتھ لئے بغیر اڑ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page