دوست کی خاطر
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
دوست کی خاطر اگر آپ کسی سفر پر جانے کے لئے ہوائی اڈہ پہنچیں اور وہاں اپنے دوستوں سے ملنے میں بہت زیادہ دیر لگا دیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی پرواز کھو دیں۔ آپ ملاقات کی سیٹ پر لمبی بات چیت میں مشغول ہوں اور ہوائی جہاز کی روانگی کا وقت آجاۓ اور وہ آپ کو لئے بغیر اڑ جاۓ۔ لیکن اگر آپ کا ”دوست‘‘ ملک کا حکمراں ہو تو صورت حال بالکل بدل جاتی ہے۔ ہندوستان کی حکمراں پارٹی کے دو ممبران پارلیمنٹ مسٹر آرن نہرو اور مسٹر او دے سنگھ راؤ گائی کوائر کیو باگئے۔ وہاں ان کو کیوبا کی سالانہ تقریبات میں شرکت کرنا تھا۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۹ اگست ۱۹۸۳ء) کی رپورٹ کے مطابق تقریبات کی تکمیل کے بعد انھوں نے چاہا کہ کیوبا کے صدر ڈاکٹر فیڈل کیشتر و (Dr. Fidel Castro) سے ملاقات کریں۔ انھوں نے صدر کے دفتر میں اپنی درخواست بھجوائی۔ دو دن کے انتظار کے بعد انھیں جواب ملا کہ صدر نے آپ دونوں کو آج رات کے کھانے پر مدعو کیا ہے۔ مگر ایم پی صاحبان نے محسوس کیا کہ وہ صدر کی اس عنایت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کیوں کہ اسی دن شام کو ۵ بجے ان کا واپسی کا رزرویشن تھا۔ انھوں نے صدر کے دفتر میں معذرت کا پیغام بھیج دیا اور اپنے پروگرام کے مطابق ہوائی اڈہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ وہ لوگ ہو انا ایئر پورٹ پر تھے کہ اچانک ڈاکٹر کیشتر و بر آمد ہوئے۔ وہ اپنے "انڈین فرینڈس" سے ملنے کے لئے ہوائی اڈہ پہنچے تھے۔ انھوں نے دونوں ہندوستانی ایم پی سے پرجوش ملاقات کی اور وی آئی پی لاؤنج میں بیٹھ کر ان سے بے تکلف باتیں کرنے لگے۔ کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر کیشتر و کے مترجم نے محسوس کیا کہ ایم پی صاحبان کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ معزز صدر کی بات لمبی ہوتی جا رہی ہے اور گھڑی کے مطابق ہماری جہاز کی اُڑان کا وقت ہو گیا ہے۔ مترجم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ مطمئن رہیں آپ کا جہاز اس وقت تک اڑان نہیں کرے گا جب تک ڈاکٹر کیشتر و اس کو گرین سگنل نہ دے دیں : Your plane will not take off until Dr. Castro gives the green signal. ہوائی اڈہ کے ذمہ داروں کے علم میں اگر یہ بات آجائے کہ ملک کا حکمران ہوائی اڈہ کے انتظار گاہ میں اپنے دوست مسافر سے بات کر رہا ہے تو وہ خود ہی ہوائی جہاز کو اس کے سوار ہونے تک روک کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader