ثواب کی طاقت
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
ثواب کی طاقت راقم الحروف تبلیغی جماعت کے مرکز (نظام الدین) کے پڑوس میں رہتا ہے۔ یہ جولائی ۱۹۸۴ء کو اس علاقہ کے ہیڈ پوسٹ میں، مسٹر ہر دت سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ بات چیت کے دوران انھوں نے بتایا کہ تبلیغی مرکز میں روزانہ جو منی آرڈر آتے ہیں اس کے لئے ایک خاص آدمی مقرر ہے۔ ان کے یہاں منی آرڈڑوں کے اندراج کا انتظام پوسٹ آفس سے بھی زیادہ مکمل ہے، ہم کو کبھی کسی منی آرڈر کے سلسلہ میں جانچ کرنی ہوتی ہے تو ہم ان کے رجسٹر سے اپنا حساب صحیح کر لیتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے مرکز (نظام الدین) میں آپ فجر کی نماز پڑھیں۔ آپ دیکھیں گے کہ جیسے ہی امام نے نماز ختم کی، چند آدمی اپنی جگہ سے اٹھ کر متحرک ہو گئے ہیں۔ وہ کرسی اور لاؤڈ اسپیکر لا کر مسجد کے وسط میں رکھ رہے ہیں۔ ایسا اچانک نہیں ہوتا۔ یہ افراد پہلے سے اسی کام کے لئے نامزد ہوتے ہیں کہ وہ نماز کے بعد مقرر کی تقریر کا انتظام کریں۔ چنانچہ نماز کے فوراً بعد وہ مقرر کو بٹھانے اور لوگوں تک اس کی آواز پہنچانے کے بندوبست میں لگ جاتے ہیں۔ تبلیغی جماعت بظاہر ہر ایک "مذہبی" جماعت ہے۔ مگر اس کے مرکز میں روز و شب کا جو نظام ہے وہ کسی اعلیٰ ترین دفتر سے کسی طرح کم نہیں۔ چنانچہ مرکز میں نظم و نسق کے لئے دس سے بھی زیادہ الگ الگ جماعتیں مقرر ہیں۔ ہر جماعت کا ایک مخصوص کام ہے جس میں وہ لگی رہتی ہے مثلاً ایک جماعت نگرانی کے لئے، دوسری جماعت صفائی کے لئے، تیسری جماعت لوگوں کو نماز کے وقت اٹھانے کے لئے، چوتھی جماعت استقبال کے لئے، پانچویں جماعت کھلانے پلانے کے لئے، چھٹی جماعت لوگوں کے منی آرڈروں کی وصولی اور تقسیم کے لئے۔ وغیرہ وغیرہ یہ جماعتیں رات دن اپنے اپنے کاموں میں سرگرم رہتی ہیں۔ ہر جماعت کے لئے باریاں مقرر ہیں۔ ایک باری کا وقت پورا ہونے پر فورا دوسری جماعت آتی ہے اور کام کو سنبھال لیتی ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ اجتماع میں اعلان کر دیا جاتا ہے کہ فلاں کام کے لئے اتنے آدمی درکار ہیں، لوگ اپنا نام بتا دیں۔ چنانچہ لوگ خود پیشکش کرتے ہیں اور اس کے مطابق جماعتیں بنا لی جاتی ہیں۔ یہ نظام اسی طرح پورے سال چلتا ہے۔ شہد کے چھتہ میں قدرت کا جو اجتماعی نظام ہے اس کا انسانی نمونہ دیکھنا ہو تو " بنگلہ والی مسجد " میں چند دن گز ار کر دیکھئے۔ قدرت کے نمونے کی پوری نقل آپ یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader