ثواب کی طاقت
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
پائیں گے۔ ہر جماعت کو ترجیح دے کر اس کے مخصوص کام کے لئے تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی ڈیوٹی کو ٹھیک ٹھیک انجام دے بلکہ اسی کے ساتھ اس سے متعلق دینی تقاضے کو بھی پورا کرے۔ مثلاً مرکز تبلیغ میں کثرت سے بیت الخلاء اور طہارت خانے بنے ہوئے ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ غیر متعلق قسم کے لوگ محض اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے یہاں آجاتے ہیں۔ چنانچہ اس شعبہ کے نگراں کو سکھایا جاتا ہے کہ جب ایسا کوئی آدمی آپ مرکز کے اندر دیکھیں تو اس سے کہیں کہ بھائی یہ مسجد ہے مسجد کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں اس لئے جب آپ یہاں آئے ہیں تو دیکھے یہ پانی کا حوض ہے۔ آپ وضو کر کے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لیجئے ۔ اسی طرح اس کو سکھایا جاتا ہے کہ مرکز کے اندر تعلیم ہو رہی ہو تو کوشش کیجئے کہ آنے والا آدمی اور ہاں بیٹھ کر کچھ دین کی باتیں بھی سن لے۔ تبلیغی مرکز میں یہ سارا کام بالکل رضا کارانہ ہوتا ہے یعنی کسی کی کوئی تنخواہ یا اجرت مقرر نہیں۔ اس کے باوجود یہ لوگ اتنی سرگرمی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ اس کا جواب صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ثواب کے لئے۔ آجکل عام اداروں میں تنخواہ اور اجرت کے باوجود جو جبری پائی جاتی ہے اس سے مقابلہ کر کے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ "ثواب " میں تنخواہ سے زیادہ طاقت پائی جاتی ہے۔ ثواب اگر چہ ایک خالص اخروی چیز ہے لیکن مذکورہ مثال بتا رہی ہے کہ اس کے اندر انتظامی قدر بھی پوری طرح موجود ہے۔ رمضان ۱۴۰۴ھ میں تقریباً ۴۰۰ آدمی تبلیغی مرکز میں مقیم تھے۔ ۱۸ رمضان المبارک کا واقعہ ہے حضرت جی (مولانا انعام الحسن صاحب) حسب معمول معائنہ کے لئے نکلے ۔ مسجد ، مدرسہ ، مطبخ و غیرہ ایک ایک چیز انھوں نے بنفس نفیس دیکھی۔ اسی اثناء میں وہ مطبخ میں پہنچے جو مسجد کے پیچھے واقع ہے۔ وہاں دو بظاہر اجنبی آدمی دکھائی دئے۔ حضرت جی ننگے پاؤں ایک ایک مقام کو دیکھ رہے تھے۔ جہاں کہیں صفائی یا نظم و ترتیب کے خلاف کوئی چیز دیکھتے تو اس کی درستگی کی ہدایت کرتے ۔ اسی حالت میں وہ مطبخ میں پہنچے ۔ وہاں ایک جگہ کوڑا پڑا ہوا نظر آیا تو ہدایت کی کہ اس کی فوراً صفائی کرو، اس سے مکھی مچھر پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت جو صاحب مطبخ کی نگرانی پر تھے وہ اتفاق سے موجود نہ تھے۔ چند منٹ میں وہ آگئے تو حضرت جی نے نرمی سے کہا " میرے بھائی ، آپ کہاں تھے ؟ اتنے میں دو آدمی مطبخ کے اندر داخل ہوتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader