Urdu book · تجدید دین

اتباع صراط، اتباع سُبل

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس روش کو بدلیں۔ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو یقینی طور پر وہ خدا کی رحمت سے دور ہو جائیں گے، اور جو لوگ خدا کی رحمت سے دور ہو جائیں، ان کے لئے خدا کی دنیا میں بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ قرآن کا یہ حکم کیوں قرآن میں کیوں حکم دیا گیا ہے کہ زور و تاکید کا سارا معاملہ اساسات دین کے ساتھ کیا جائے نہ کہ فروعات دین کے ساتھ۔ اس کا خاص سبب ہے۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ اساس سے فرع نکلتی ہے، مگر فرع سے اساس پیدا نہیں ہوتی۔ ایک شخص درخت کی کچھ پتیاں اور شاخیں لے آئے اور ان پر زراعتی محنت شروع کر دے۔ وہ ان کو پانی دے۔ ان میں کھاد ڈالے۔ ان کو زمین میں نصب کرے تو یہ بے فائدہ کام ہوگا۔ اس کی تمام محنتوں کے باوجود پتیاں اور شاخیں سوختی رہیں گی، وہ شاداب درخت کی صورت اختیار نہیں کر سکتیں ۔ لیکن جب آپ ایک بیج لے کر زمین میں بوئیں، تو اس کے بعد وہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک روز وہ سر سبز و شاداب درخت کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ وہ ہر قسم کی شاخوں اور پتیوں سے بھر جاتا ہے۔ یہی معاملہ دین کا ہے۔ اگر آپ فروع دین پر توجہ دیں تو ساری محنت کے باوجود کوئی حقیقی نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔ حتی کہ خود وہ فروع بھی برپا نہیں ہوں گی جن پر آپ اپنی قوت صرف کر رہے تھے۔ لیکن اگر آپ اساسات دین پر محنت کریں تو اس کے بعد دین کا اساسی پہلو بھی مستحکم ہوگا اور اسی کے ساتھ دین کی تمام شاخیں بھی اپنے آپ ظاہر ہوتی چلی جائیں گی۔ اتباع صراط کی روش اختیار کرنے سے ’’صراط‘‘ بھی حاصل ہوتی ہے اور ’’سبل‘‘ بھی۔ مگر اتباع سبل کی روش اختیار کی جائے تو آدمی ’’صراط‘‘ کو بھی کھو دیتا ہے اور اسی کے ساتھ ’’سبل‘‘ کو بھی۔ وہ درخت سے بھی محروم رہتا ہے اور درخت کی شاخوں اور پتیوں سے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page