Urdu book · تجدید دین

اتباع صراط، اتباع سُبل

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

متعلق راہوں میں بھٹکتے رہیں گے، وہ کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچیں گے۔ ایک شخص خالی الذہن ہو کر قرآن کو پڑھے اور یہ دیکھے کہ وہ اسلام کیا ہے جس کو قرآن میں پیش کیا گیا ہے۔ دوسری طرف وہ اس اسلام کا مشاہدہ کرے جو موجودہ مسلمانوں میں رائج ہے تو وہ دونوں کے درمیان زبردست فرق پائے گا۔ حتیٰ کہ وہ یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہوگا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان عین اسی بگاڑ میں مبتلا ہو چکے ہیں جس کی نشاندہی قرآن کی مذکورہ آیت میں کی گئی تھی ۔ قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ آج کے مسلمان ’’اتباع صراط‘‘ پر قائم نہیں، وہ ’’اتباع سبل‘‘ میں مبتلا ہیں۔ قرآن میں جو دین ہے اس میں سارا ازور حقیقت پر دیا گیا ہے، جب کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے یہاں سارا ازور مظاہر پر دیا جانے لگا ہے۔ قرآن میں عبادت کی بنیاد خشوع پر ہے اور مسلمانوں کے یہاں عبادت کی بنیاد مسائل پر۔ قرآن کے مطابق رسول پر ایمان کا معیار اتباع رسول ہے اور مسلمانوں کے یہاں رسول پر ایمان کا معیار عشق رسول۔ قرآن کے مطابق اسلام تواضع کا عنوان ہے اور مسلمانوں کے نزدیک اسلام فخر کا عنوان۔ قرآن کے نزدیک دعوت نجات انسانی کی ناصحانہ جد وجہد ہے اور مسلمانوں کے نزدیک دعوت قومی جھگڑوں کے لئے معرکہ آرائی۔ قرآن کے نزدیک آخرت کی کامیابی کا انحصار عمل صالح پر ہے اور مسلمانوں کے نزدیک آخرت کی کامیابی کا انحصار کلمہ گوئی پر۔ قرآن کے نزدیک اسلامی تحریک فرد کی اصلاح کا نام ہے اور مسلمانوں کے نزدیک اسلامی تحریک حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کرنے کا۔ قرآن کا دین آخرت رخی (Akhirat oriented) ہے اور مسلمانوں کا دین سیاست رخی (Politics oriented) اس طرح کے بے شمار فرق ہیں جو قرآن کے بتائے ہوئے دین میں اور مسلمانوں کے مروجہ دین میں پیدا ہو گئے ہیں۔ قرآن ’’اتباع صراط‘‘ کی تاکید کرتا ہے اور موجودہ مسلمان اتباع سبل میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ صورت حال انتہائی حد تک تشویش ناک ہے۔ مسلمانوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page