تجدید دین
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
تجدیدِ دین تجدید کے معنی ہیں نیا کرنا۔ تجدیدِ دین کا مطلب یہ ہے کہ دین کے اوپر جب گردو غبار پڑ جائے تو اس کو صاف کر کے دوبارہ دین کو اس کے اصل رنگ میں پیش کر دیا جائے۔ دین کے اوپر گردو غبار کی وجہ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے۔ اور وہ آسمانی متن میں انسانی اضافہ۔ یہ اضافہ ابتداء وقتی محرکات کے تحت وجود میں آتا ہے۔ اور اس کے بعد رفتہ رفتہ مقدس بن کر اصل خدائی مذہب کا جزء بن جاتا ہے۔ اس کو لوگ اسی طرح ماننے لگتے ہیں جس طرح خدائی وحی کو ماننا چاہئے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ اپنے احبار اور رہبان کو خدا کے سوا اپنا رب بنا لیتے ہیں (التوبہ: 31) اس اضافہ کے محرکات عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں: 1۔ مذہب کی حقیقت کو خارجی طور پر متعین کرنے کی کوشش (externalisation) 2۔ مذہب کی تعلیمات کو عقلی اصطلاحوں میں بیان کرنا (rationalisation) پہلی غلطی کی ایک مثال بائبل (پرانا عہد نامہ) کے ابتدائی ابواب ہیں جو قربانی کی انتہائی جزئی تفصیلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ بے شمار آداب اور طریقے یا قرآن کے الفاظ میں اصر و اغلال (الاعراف: 154) جو موجودہ بائبل میں درج ہیں، ان کا حقیقی موسوی شریعت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ بعد کے یہودی علماء کی پیدا کردہ فقہ تھی جس کو کتاب مقدس میں شامل کر دیا گیا۔ اسی طرح وہ بدعت (الحديد: 27) جو مسیحیت میں رہبانیت کے نام سے رائج ہوئی، وہ بھی بعد کو پیدا ہونے والا مسیحی تصوف تھا جس کا حضرت مسیح نے کبھی حکم نہیں دیا تھا۔ یہ چیزیں جوا بابتداء یہودی عبادت یا مسیحی روحانیت کا خارجی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کے سلسلے میں وجود

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader