تجدید دین
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
میں آئیں، دھیرے دھیرے خود یہودیت اور مسیحیت کا جزء بن گئیں ۔ یہاں تک کہ ان کے ہجوم میں اصل دین خداوندی گم ہو کر رہ گیا۔ دوسرے بگاڑ کی مثال موجودہ مسیحیت کے عقائد ۔ تثلیث، کفارہ، ابنیت مسیح وغیرہ ہیں۔ یہ عقائد نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح نے کبھی تلقین نہیں کیے بلکہ آج بھی وہ متی ، مرقس ، لوقا اور یوحنا کی انجیلوں میں نہیں پائے جاتے ۔ کفارہ کا عقیدہ سینٹ پال نے ایجاد کیا، تا ہم تثلیث اس کے یہاں بھی نہیں یہ سب مسیحی متکلمین کی باتیں تھیں جو بعد کے دور میں وجود میں آئیں ۔ مسیحیت جب شام سے باہر نکلی تو دوسری قوموں ، خاص طور پر مصریوں اور یونانیوں کو مسیحی بنانے کی خاطر مسیحی علماء نے یہ کیا کہ اپنی تعلیمات کو ان کی مانوس زبان میں بیان کرنا شروع کیا جس کو قرآن میں مضاہاة (التوبہ: 31) کہا گیا ہے ، مسیحی بزرگوں کی یہ باتیں دھیرے دھیرے مقدس ہوتی چلی گئیں ۔ یہاں تک کہ رومی شہنشاہ قسطنطین اول کے زمانہ میں جب ان کو سیاسی حمایت بھی حاصل ہو گئی تو نیقیا کونسل (325) کے ذریعے اس خود ساختہ مسیحیت کو انھوں نے حقیقی مسیحیت کی حیثیت سے بزور رائج کر دیا ۔ گویا وہ چیز جس کو آج مسیحی عقائد کہا جاتا ہے ، وہ در حقیقت کسی زمانہ کا مسیحی علم کلام تھا جو بالآخر مسیحیت کا جزء بلکہ اصل مسیحیت بن گیا۔ آج اسلام پر یہ سارے ’’گرد و غبار‘‘ اسی طرح پڑ چکے ہیں جس طرح وہ پچھلی امتوں کے دین پر پڑے تھے ۔ اسلام کی تجدید کا کام سب سے پہلے ان آمیزشوں کو اس سے الگ کرنا ہے۔ خدا کے دین کو از سر نو زندہ کرنے کی کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کو انسانی گرد و غبار سے پاک نہ کر دیا جائے۔ پیغمبر اسلام نے مختلف انداز سے اپنی امت کو واضح تنبیہ کر دی تھی کہ وہ اس فتنے سے بچیں۔ دنیا سے جاتے ہوئے آپ نے جو آخری نصیحت کی وہ یہ تھی :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader