Urdu book · تجدید دین

کار تجدید

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم اللہ الرحمن الرحیم کارِ تجدید تجدید یا جَددَ کے معنی ہیں نیا کرنا (to renew) کسی چیز پر بعد کو پیش آنے والے بگاڑ کو ختم کر کے اس کو اپنی پہلی صورت پر لے آنا۔ یہ تجدید باعتبارِ تبیین (فکری وضاحت) مراد ہے نہ کہ باعتبارِ تنفیذ (عملی اقامت) چنانچہ اس سلسلہ میں حدیث کی کتابوں میں جو روایتیں آئی ہیں، ان میں بعض روایات میں تجدید کا لفظ ہے اور بعض روایات میں تبیین کا لفظ۔ تجدید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین میں کوئی نئی چیز نکالی جائے۔ موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام کو ماڈرنائز کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ اسلام میں عقیدہ ابدی ہے اور قانون (شریعت) زمانی۔ ایک طبقہ نے ایسے لوگوں کو مجدد کہنا شروع کیا۔ مگر یہ بالکل لغو بات ہے۔ یہ لوگ مجدد نہیں بلکہ متجدد تھے۔ اور متجدد کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے دیکھا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان سیاسی مغلوبیت یا معاشی انحطاط میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے قوم کو سیاسی اور معاشی اعتبار سے اٹھانے کی کوشش کی۔ ایسے لوگوں کو بھی مجدد کہا جانے لگا۔ مگر اس قسم کے ایک کام کو قومی خدمت تو کہا جا سکتا ہے، مگر اس کو تجدید کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح کچھ مفکرین نے اسلام کو عالم گیر سیاسی نظام کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔ اس مقصد کے لئے وہ حکمرانوں سے ٹکرا گئے۔ انھوں نے مختلف ملکوں میں اپوزیشن کی سیاست جاری کر دی۔ اور اسلام کے نام پر دنیا میں ریاستی اور تمدنی انقلاب کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ ایسے لوگوں کو بھی کچھ لوگ مجدد کے لفظ سے پکارتے ہیں۔ مگر یہ بھی سراسر غلط ہے۔ اس قسم کی نظریہ سازی یا سیاسی اکھاڑ پچھاڑ بھی وہ چیز نہیں جس کو حدیث میں تجدید کہا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page