کار تجدید
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں جس تجدیدی عمل کا ذکر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کی تعلیمات کو از سر نو اس کی اصل صورت میں واضح کرنا۔ دین کو انسانی ملاوٹوں سے پاک کرکے اس کو اس ابتدائی صورت میں سامنے لے آنا جیسا کہ پیغمبر نے اس کو اپنے زمانہ میں پیش کیا تھا۔ قرآن میں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر یاد دہانی اتاری ہے تا کہ تم لوگوں پر اس چیز کو واضح کر دو جوان کی طرف اتاری گئی تھی (وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ (النحل : 44) ذکر منزّل کی اسی تبیین نو کا نام تجدید ہے۔ یہاں تجدید سے متعلق کچھ حدیثیں نقل کی جاتی ہیں۔ ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها - ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها امر دينها - ان الله يبعث على رأس كل مائة سنة من يجدد لهذه الامة امر دينها - ان الله عزوجل يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة رجلا يقيم لها امر دينها - ان الله يمن على اهل دينه فى رأس كل مائة سنة برجل من اهل بيتي فيبين لهم امر دينهم (دعوة الحق ، الرباط، ربيع الاول 1405 ھ) اللہ اس امت کے لئے ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے گا جو اس کے دین کی تجدید کرے گا۔ اللہ اس امت کے لئے ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے گا جو اس کے معاملہ کی تجدید کرے گا۔ اللہ ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے گا جو اس امت کے دینی معاملہ کی تجدید کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو بھیجے گا جو اس کے لئے اس کے دینی معاملہ کو درست کرے گا۔ اللہ ہر سو سال کے سرے پر اپنے دین کے لوگوں پر میرے اہل بیت کے ایک آدمی کے ذریعہ احسان کرے گا۔ وہ ان کے لئے ان کے دین کے معاملہ کو بیان کرے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader