Urdu book · تجدید دین

اجنبی دین

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، اس کو دوبارہ لوگوں کے لئے معروف اور معلوم دین بنایا جائے۔ لوگوں کے ذہن وفکر کی اصلاح کر کے انھیں اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ دین کو اس کی اصل صورت میں دیکھنے لگیں۔ پیغمبر کی مثال تجدید دین کا مطلب تجدید سیاست نہیں، اور نہ اس کا مطلب کسی قسم کی عالمی حکومت قائم کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے اتارے ہوئے دین کو دوبارہ اس کی ابتدائی اور اصلی صورت میں بے نقاب کر دینا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجئے: وَلَمَّا جَاءَ عِيسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ۝ إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ۝ (الزخرف : 63- 64) اور جب عیسیٰ کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے ۔ انھوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں تم پر بعض باتیں واضح کردوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ بے شک اللہ ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی، تو تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ اس آیت میں حکمت سے مراد روح دین ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو دین بنی اسرائیل کو دیا تھا، اس کی روح کو بنی اسرائیل نے کھو دیا تھا۔ وہ اس کے بعض ظواہر اور رسوم سے لپٹے ہوئے تھے اور اسی کو موسیٰ کا دین سمجھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ نے دین کی اصل روح سے بنی اسرائیل کو آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عیسیٰ کے اس مشن کی ایک جھلک موجودہ محرف انجیل میں بھی دیکھی جاسکتی۔ اس اعتبار سے حضرت مسیحؒ گویا دین موسوی کے مجدد تھے۔ انھوں نے حضرت موسیٰ کے لائے ہوئے دین کو از سرِ نو زندہ کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عیسیٰ کے ’’تجدیدی کام‘‘ کی اس مثال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page