اجنبی دین
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، دین آج دوبارہ اسی اجنبی حالت کو پہنچ چکا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ موجودہ مسلمانوں میں آج خالص توحید اجنبی چیز بن چکی ہے۔ وہ صرف اس توحید کو جانتے ہیں جس میں اللہ کی عظمت کے ساتھ ان کے اپنے بڑوں کو بھی شریک عظمت کیا گیا ہو۔ وہ صرف اس دین سے مانوس ہیں جس میں ان کے بزرگوں کو بھی اسی طرح تنقید سے بالاتر رکھا گیا ہو جس طرح پیغمبر خدا تنقید سے بالاتر ہیں۔ اسی طرح شریعت کے نام سے وہ صرف اپنی خواہشوں کی شریعت کو جانتے ہیں۔ جس کو انھوں نے بطور خود اپنے مزاج کے مطابق بنالیا ہے۔ وہ ایسی شریعت سے واقف نہیں جوان کے مزاج کے خلاف ہو اور ان کی خواہشوں پر روک لگاتی ہو۔ مثلاً تقریبات کو اسلامی سادگی کے ساتھ ادا کرنا۔ سنت کے طریقہ پر نکاح اور طلاق کا معاملہ کرنا۔ عورتوں کو ان کا مقررہ حصہ ادا کرنا۔ مال اور جائداد کے معاملات میں شرعی احکام پر عمل کرنا وغیرہ۔ اس قسم کی شریعت ان کی نظر میں بالکل اجنبی ہے۔ یہی آج دین کے تمام پہلوؤں کا حال ہے۔ موجودہ مسلمان دین کے نام سے صرف بگڑے ہوئے دین کو جانتے ہیں، وہ دین کو اس کی اصلی صورت میں نہیں پہچانتے۔ وہ کلمہ گوئی کو جانتے ہیں مگر وہ معرفت ایمانی کو نہیں جانتے۔ وہ دین کے کمیاتی پہلو سے واقف ہیں، مگر وہ دین کے کیفیاتی پہلو سے آشنا نہیں ۔ وہ مناظرہ بازی کے ماہر ہیں، مگر دعوت اور داعیانہ ذمہ داری کی انھیں خبر نہیں۔ رسول کو سرمایہ فخر سمجھنا انھیں خوب معلوم ہے مگر رسول کو مرکز اتباع اور اسوۂ حسنہ سمجھنا انھیں معلوم نہیں۔ ان کے رہنماؤں کو معلوم ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے مسائل کا ذمہ دار ٹھہر اک ان کے خلاف مطالبہ اور احتجاج کی مہم چلائیں مگر ان کے کسی بھی رہنما کو اس حقیقت کا علم نہیں کہ مسائل ہمیشہ قوم کی داخلی کمزوریوں سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ دوسروں کی سازش اور ظلم سے۔ ان حالات میں اصلاح و تجدید کا اصل کام یہ ہے کہ جو دین لوگوں کی نظر میں اجنبی بن گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader