ذاتی ذمہ داری
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
میں پہنچے۔ وہاں بہت سے مسلمانوں نے نہایت گرم جوشی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ وہاں ان کی ملاقات ایک مولوی سے کرائی گئی جو حیدرآباد سے بلایا گیا تھا۔ اس مولوی نے کلمہ پڑھا کر ان چاروں کو اسلام میں داخل کیا۔ ان کے نام کی تفصیل یہ ہے: خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان نومسلموں میں سے دو آدمی اس کے بعد النسور (Ulsoor) گئے۔ وہاں انھوں نے ایک انگریز اور سیر کے پندرہ سالہ لڑکے کو آمادہ کیا کہ وہ بھی انھیں کی طرح اسلام قبول کرلے۔ اس کو راضی کرکے وہ اسے ایک مسجد میں لے گئے مگر مسجد کے ذمہ داروں نے اس کو اسلام میں داخل کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ لڑکا ابھی نابالغ ہے، اگر اس کے باپ کو معلوم ہواتو وہ ہم کو پریشان کرے گا۔ مگر نومسلموں نے اس کی پروا نہیں کی۔ اس کے بعد انھوں نے خود ہی لڑکے کا بال مونڈ ا اور اس کو محمدن مذہب میں داخل کر لیا۔ انیسویں صدی کے مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کو اسلام کا دشمن قرار دے کر ان سے جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ مگر اسلام دین فطرت ہے، اگر نفرت کا پردہ ہٹا دیا جائے تو ہر ایک کو اسلام اپنے دل کی آواز محسوس ہونے لگے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader