ذاتی ذمہ داری
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت زیر تربیت پرنسپل صاحبان کالج کے کسی چپراسی یا ورکر کو تلاش کرنے لگے تا کہ اس کو ورکشاپ بھیج کر وہاں سے بیٹری منگوانیں اور اس سے لاؤڈ اسپیکر کو چلائیں، مگر انگریز پروفیسر کو جیسے ہی صورتِ حال کا علم ہوا وہ خود بھاگ کر ورکشاپ میں پہنچا اور بھاری بیٹری کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر دوڑتا ہوا آیا اور لاؤڈ اسپیکر کے نظام سے جوڑ کر اس کو چلا دیا۔ کسی قوم کے افراد میں یہی مزاج اس قوم کی اجتماعی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ افراد کے اندر یہ اسپرٹ جتنا زیادہ پائی جائے گی، اتنا ہی زیادہ وہ قوم ترقی کر سکے گی۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ سماج میں کوئی خرابی دیکھتے ہیں تو ایک قانون بنانے کی تجویز پیش کرتے ہیں یا نظام میں تبدیلی لا کر اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں مگر قانون اور نظام کی ایک حد ہے۔ اپنی حد پر پہنچ کر قانون اور نظام غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔ اصلاح کا اصل طریقہ یہ ہے کہ افراد کے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا کر دیا جائے۔ ماضی کا ایک صفحہ انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا (جاری شدہ 1838) میں روزانہ اس کے قدیم فائل سے کوئی ایک شائع شدہ خبر نقل کی جاتی ہے۔ اس کے شمارہ 18 جون 1993 میں اس کالم کے تحت وہ خبر نقل کی گئی ہے جو اخبار مذکورہ کے شمارہ 31 مئی 1875 میں چھپی تھی۔ اس خبر کا عنوان تھا ــ مزید یورپی کا قبولِ اسلام : More Europeans convert to Islam اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ بنگلور میں یورپی لوگ اکثر اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔ اس کے مطابق 9 مئی 1875 کی صبح کو جب ایک ٹرین بنگلور اسٹیشن پر رکی تو اس سے چار یورپی افراد برآمد ہوئے۔ وہ اسٹیشن کے باہر آ کر کینٹنمنٹ کے علاقہ میں جنرل بازار کی ایک مسجد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader