اتحاد یا بھیڑ
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
اتحاد یا بھیڑ شائستہ اکرام اللہ (عمر 75 سال) مسٹر محمد علی جناح کی گہری عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ انھوں نے ان کے تحت کام کیا ہے ۔ وہ 1947 سے 1954 تک پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی ممبر رہی ہیں ۔ 1964 سے 1967 تک وہ مرا کو میں پاکستان کی سفیر تھیں، وغیرہ۔ ریڈرس ڈائجسٹ (مئی 1991) میں ان کا ایک مضمون مسٹر محمد علی جناح کے بارے میں چھپا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے مسٹر جناح سے متعلق مختلف یادداشتیں نقل کی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ابتداء ہندستان کے مسلمان مسلم لیگ کے ساتھ نہ تھے۔ مگر مسٹر جناح کی قیادت کا یہ کرشمہ تھا کہ 46-1945 کا الکشن ہوا تو ہندستانی ریاستوں میں 85 فی صد مسلم سیٹوں پر مسلم لیگ کا قبضہ ہو گیا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ قائد (مسٹر جناح) یہ کہا کرتے تھے کہ انھوں نے ایک بھیڑ کو ایک قوم کی صورت دی ہے۔ آج پاکستان کے داخلی جھگڑوں کو دیکھتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ بھیڑ کی حالت کی طرف واپس چلے گئے ہیں: The Quaid (Mr. Jinnah) used to say that he had fashioned a nation out of a mob. Today, seeing all our internal squabbles, I sometimes think that we have gone back to being a mob. لوگ اکثر غلطی کرتے ہیں کہ وہ جلسہ گاہ میں لوگوں کے جمع ہونے کو اتحاد سمجھ لیتے ہیں ۔ حالاں کہ موجودہ قسم کے جلسے حقیقتاً بھیڑ کی وقتی یکجائی کے ہم معنی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ بھیڑ کا ایک متحد قوم بننا جلسہ جلوس سے بالکل علیحدہ چیز ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان مثبت سطح پر یکساں سوچ آجائے، ان کے اندر مستحکم کردار پیدا ہو جائے ۔ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader