Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسروں کا ساتھ دینے پر راضی ہوں ۔ ان کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے کہ ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر بلند تر انسانی مقاصد کے لیے جینے لگیں ۔ اتحاد وہ ہے جو روزانہ کی حقیقی زندگی میں دکھائی دے، نہ کہ وقتی قسم کے جلسہ اور جلوس میں ۔ کامیابی کی شرط ایک شخص رات کے وقت سیڑھی سے نیچے اتر رہا تھا۔ اگر چہ وہ ایک بینا آدمی تھا۔ مگر سیڑھی پر روشنی نہ تھی۔ سیڑھی کا ایک زینہ کسی قدر ٹوٹا ہوا تھا۔ وہ اس کو نہ دیکھنے کی وجہ سے اس پر ٹھیک سے اپنا قدم نہ جما سکا۔ اور پھسل کر گر گیا۔ دوسرا شخص سڑک پر چل رہا تھا۔ دن کا وقت تھا۔ مگر چلنے والا اندھا تھا۔ سڑک کے ایک کنارے میں ہول کا ڈھکن کھلا ہوا تھا۔ وہ اندھا ہونے کی وجہ سے اس کو نہ دیکھ سکا۔ اور اس کا پاؤں گڑھے میں چلا گیا۔ اس دنیا میں راستہ طے کرنے کے لیے بیک وقت دو چیزوں کی ضرورت ہے ۔ آنکھ اور روشنی ۔ اگر آنکھ ہو مگر روشنی نہ ہو، یا روشنی ہو مگر آنکھ نہ ہو، دونوں صورتوں میں انجام ایک ہوگا۔ آدمی گڑھے میں گر کر تباہ ہو جائے گا ۔ وہ محفوظ طور پر اپنا راستہ طے نہیں کر سکتا ۔ یہی معاملہ پوری انسانی زندگی کا ہے۔ زندگی میں کامیابی کے لیے بھی وہی اصول ہے جو مذکورہ دونوں واقعے میں نظر آتا ہے۔ یعنی بیک وقت بینائی اور روشنی دونوں چیزوں کا حامل ہونا۔ ایک قوم ہے۔ اس کے افراد اللہ کا دیا ہوا دماغ رکھتے ہیں، مگر ان کے پاس علم نہیں، ایسی حالت میں گویا کہ ان کے پاس آنکھ ہے مگر روشنی نہیں۔ ایسے لوگ آنکھ رکھتے ہوئے بھی زندگی کے راستوں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اسی طرح ایک قوم ہے۔ اس کے افراد تعلیم یافتہ ہیں، مگر ان کا ذہن بگڑا ہوا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page