تعمیر حیات
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
شکایتوں کے اوپر غالب رہتا تھا۔ اختلاف کے باوجود وہ انہیں آپس میں جوڑے رکھتا تھا۔ یہ فطرت کی ایک نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ دنیا میں آدمی کو کس طرح رہنا چاہیے۔ دنیا میں لوگوں کو اس طرح رہنا چاہیے کہ ان کے درمیان اختلاف اور شکایت کی صورتیں پیدا ہوں، اس کے باوجود ان کا باہمی تعلق نہ ٹوٹے، اس کے باوجود وہ محبت کے ساتھ مل جل کر زندگی گزاریں۔ دنیا میں ایسا بہر حال ہو گا کہ جب لوگ مل جل کر رہیں گے تو ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوگی۔ شکایت کے واقعات سے خالی زندگی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ نہیں کہ انسانی سماج شکایت کے واقعات سے خالی ہو جائے ۔ بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ شکایت کو نفرت تک پہنچنے سے بچایا جائے۔ بھائی بہن کے معاملے میں جو چیز شکایت کو نفرت تک پہنچنے سے روکتی ہے وہ خونی تعلق ہے ۔ اور عام انسان کے لیے اخلاقی اصول اسی روک کا کام کرتا ہے۔ خونی تعلق ایک طبعی تقاضا ہے، اس لیے اس کے اوپر کوئی ثواب یا انعام نہیں۔ مگر اخلاقی اصول کو آدمی خود اپنے ارادے سے اختیار کرتا ہے، ایسا آدمی خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو ایک ڈسپلن میں باندھتا ہے، اس لیے جو آدمی اس اخلاقی ڈسپلن کا ثبوت دے اس کے لیے بہت بڑا انعام ہے، دنیا میں بھی اور آخرت کی ابدی زندگی میں بھی۔ خود اعتمادی 1975 میں ساؤتھ کوریا نے اسٹیل فیکٹری کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس کے لیے انہیں ورلڈ بینک کے قرض کی ضرورت تھی۔ انھوں نے اس کی درخواست بھیجی۔ اس کے بعد حسب قاعدہ بینک کے ماہرین کی ایک پارٹی کوریا گئی تاکہ وہ بر سر موقع حالات کا مطالعہ کرے ۔ اس پارٹی نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد یہ رپورٹ دی کہ کوریا کے موجودہ حالات کو دیکھتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader