Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک انسان وہ ہے جس کے مزاج میں سنجیدگی ہو۔ جو سیکھنا چاہتا ہو اور جس کے اندر کام کرنے کا شوق ہو۔ اس کا حال وہی ہوگا جو مذکورہ قول میں جاپانی کا حال بتایا گیا ہے۔ ایسا انسان بولنے سے زیادہ سننا چاہے۔ کیوں کہ سننا اس کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کا دھیان اپنی ذمہ داریوں پر ہوگا۔ اور جس آدمی کا ذہن اپنی عملی ذمہ داریوں پر لگا ہوا ہو، اس کا بولنا کم ہو جاتا ہے۔ عمل کا مزاج اپنے آپ قول کو گھٹا دیتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو سنجیدگی سے خالی ہو۔ جس کے اندر یہ شوق نہ ہو کہ وہ اپنے علم میں اضافہ کرے ۔ جو محنت سے دور بھاگتا ہو۔ ایسے آدمی کا حال وہ ہوتا ہے جو مذکورہ قول میں ہندوستانی کا بتایا گیا ہے۔ ایسا انسان سب سے زیادہ بولنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہی نہیں کہ کچھ اور باتیں ہیں جن کو اسے جاننا چاہے۔ وہ بے تکان بولے گا، کیونکہ اس کا احساس ہوگا کہ زیادہ بول کر وہ اپنے کم کام کی تلافی کر سکتا ہے۔ زیادہ بولنا اور کم کرنا غیر سنجیدہ انسان کی علامت ہے اور کم بولنا اور زیادہ کرنا سنجیدہ انسان کی علامت۔ فطری زندگی ایک بار میں ایک صاحب کے گھر پر ان سے ملنے کے لیے گیا۔ وہاں ان کے چار چھوٹے بچے (ڈولڑ کی، ڈولڑ کا) کھیل رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بار بار اپنے والد سے ایک دوسرے کی شکایت کرتے ہیں ۔ اس نے مجھے مار دیا، اس نے میرا کھلونا لے لیا، اس نے مجھے دھکیل دیا، اس نے مجھے ایسا کہہ دیا، وغیرہ۔ ان شکایتوں کے باوجود وہ سب مل کر کھیلتے رہے۔ ان کے باہمی تعلق میں پھر بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ شکایتوں کے باوجود ان کی باہمی محبت کیوں باقی رہی ۔ اس کی وجہ خونی تعلق ہے۔ وہ سب بھائی اور بہن تھے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خون کا رشتہ رکھتے تھے۔ یہ خونی تعلق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page