خود اعتمادی
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
شرافت کی طاقت سابق وائس پریذیڈنٹ آف انڈیا محمد ہدایت اللہ صاحب (1905-1992) کا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ان کے پی اے مسٹر اطہر صدیقی ایم اے نے مجھے بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار پنجاب کے سکھ پیشواؤں کا ایک وفد ہدایت اللہ صاحب سے ملنے کے لیے نئی دہلی آیا۔ وہ لوگ اپنی روایات کے مطابق، کر پان لگائے ہوئے تھے۔ وائس پریذیڈنٹ کی سرکاری رہائش گاہ پر سکیورٹی کے جو لوگ تھے، انھوں نے سکھوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنی یہ کر پانیں باہر ہمارے پاس رکھ دیں۔ اس کے بعد وائس پریذیڈنٹ سے ملنے کے لیے اندر جائیں۔ وہ لوگ اپنی کر پانیں باہر چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ اب بات بڑھی۔ سکیورٹی افسر نے ٹیلی فون کے ذریعہ وائس پریذیڈنٹ کے سیکریٹری سے رابطہ قائم کیا اور صورت حال بتائی۔ سیکریٹری نے آرڈر دے دیا کہ انھیں کر پانوں کے ساتھ اندر مت جانے دو، اور اگر وہ اس طرح اندر جانے پر اصرار کریں تو ان کو گرفتار کر لو۔ اطہر صدیقی صاحب نے بتایا کہ میں نے موقع کی نزاکت کو محسوس کیا۔ چنانچہ میں فوراً اندر گیا اور ہدایت اللہ صاحب سے مل کر انھیں بتایا کہ یہاں اس قسم کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ اور سکیورٹی افسر اور سیکریٹری کا رویہ سراسر حکمت کے خلاف ہے۔ آپ ملٹری افسر سے براہ راست کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں کو نہ روکیں اور انھیں کر پانوں کے ساتھ اندر آنے دیں۔ ہدایت اللہ صاحب معاملے کی نزاکت کو سمجھ گئے۔ اور اس کے مطابق ٹیلی فون پر سکیورٹی افسر کو ہدایت دے دی۔ اس کے بعد سکھ وفد اپنی کر پانوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ ہدایت اللہ صاحب کے سامنے پہنچتے ہی انھوں نے اپنی کر پانوں کو اتار کر ہدایت اللہ صاحب کے قدموں میں رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کیا ہم کمینہ پن کریں گے کہ یہاں آ کر آپ کے اوپر ان کر پانوں سے حملہ کر دیں۔ آپ ہمارے لیے باپ کے برابر ہیں۔ ہم تو ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader