خود اعتمادی
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر آپ حکمت کا طریقہ اختیار کریں تو مسلح دشمن بھی اپنے ہتھیاروں کو پھینک دے گا اور آپ کی انسانیت کے اعتراف میں آپ کے قدموں پر گر جائے گا۔ مستقبل بینی مئی 1992 میں ایک صاحب آندھرا پردیش سے دہلی آئے۔ وہ بطور تحفہ ہمارے لیے آم بھی لائے تھے۔ آم کی ٹوکری پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ آم جب میں نے اپنے یہاں کے بازار سے لیے تو وہ بالکل اچھے تھے۔ مگر راستہ میں شدید گرمی پڑی جس کی وجہ سے اکثر آم خراب ہو گئے۔ میں خاموش رہا۔ اس وقت مجلس میں ایک ”باغبان“ بھی موجود تھے۔ انھوں نے آم کو دیکھتے ہوئے کہا کہ بھائی صاحب، یہ آم گرمی کی وجہ سے خراب نہیں ہوئے ہیں بلکہ آپ کی ایک غلطی کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں۔ پھر باغبان نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنے یہاں کی مارکٹ سے جب آم لیے تو کیا وہ پکے ہوئے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ باغبان نے کہا کہ خراب ہونے کی وجہ یہی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پکے ہوئے آم مقامی استعمال کے لیے ہوتے ہیں۔ جب آم کو دور لے جانا ہو تو اس وقت کچے آم خریدے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کچے آم لیے ہوتے تو ایک آم بھی خراب نہ ہوتا۔ سب کے سب اچھی حالت میں یہاں تک پہنچ جاتے۔ اس واقعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں مستقبل بینی کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ جب بھی آپ ایک ایسا منصوبہ بنائیں جس کی تکمیل آئندہ ہونے والی ہو تو ایسی صورت میں صرف حال کا علم کافی نہیں۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ آپ مستقبل کو جانیں، آج کے دائرے سے اوپر اٹھ کر کل پیش آنے والے واقعات سے واقفیت حاصل کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader