Urdu book · تعمیر حیات

دوسرا چانس

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ کالج کے تعصب کو ایکسپوز کریں۔ میں نے انھیں منع کیا۔ میں نے کہا کہ ابھی تو آپ نے صرف ایک چانس کو کھویا ہے۔ زندگی میں ہمیشہ ایک چانس کے بعد دوسرا چانس آتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پہلے چانس کے کھوئے جانے پر دل نہ ہو بلکہ دوسرے چانس کا انتظار کرے۔ ایک سال کے بعد پھر اسی کالج میں ایک لیکچرار کی جگہ نکلی۔ اس کا اعلان اخبار میں چھپا تو مذکورہ مسلمان نے دوبارہ اس کے لیے اپنی درخواست بھیج دی۔ اس بار ایسا ہوا کہ لیکچر شپ کی اس جگہ کے لیے مذکورہ مسلمان کے علاوہ دو ہندو امیدوار بھی تھے۔ دونوں کو دو طاقتور ہندوؤں کا سپورٹ حاصل تھا۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ کالج کے ذمہ دار دونوں ہندوؤں کو نہیں لے سکتے تھے اور ان میں سے ایک کو لینے کا مطلب یہ تھا کہ دوسرے ہندو امیدوار کا سپورٹر ناراض ہو جائے۔ اس نزاکت کا حل انھوں نے یہ تلاش کیا کہ دونوں ہندوؤں کو چھوڑ کر مذکورہ مسلمان کو منتخب کر لیا۔ یہ مسلمان ابھی تک اسی کالج میں کام کر رہے ہیں اور اب انھوں نے دہلی میں اپنا ذاتی گھر بنا لیا ہے۔ یہی زندگی میں کامیابی کا راز ہے۔ اگر آپ سے پہلا چانس کھو جائے تو آپ ہرگز بدل نہ ہوں۔ بلکہ سادہ طور پر صرف یہ کریں کہ دوسرے چانس کا انتظار کریں۔ اگر آپ ایسا کر سکیں تو یقینی طور پر دوسرا چانس آپ کے لیے آئے گا اور جو کامیابی آپ کو پہلی کوشش میں نہیں ملی تھی وہ بلاشبہ دوسری کوشش میں آپ کو مل جائے گی۔ دنیا مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر ایک موقع کے بعد دوسرا موقع آتا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے تاریک شام کے بعد روشن صبح۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page