Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

آگ لگائی۔ آواز سن کر پڑوسی دوڑ پڑے۔ مگر جب کچن کا دروازہ توڑ کر لڑکے کو نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ جل کر مر چکا ہے۔ لڑکے کی ماں لیلا جب اسکول پہنچی تو وہاں اس کو نتیجہ کا پرچہ (marks card) دیا گیا۔ وہ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ کیوں کہ اس کے لڑکے نے 600 میں 379 نمبر حاصل کیے تھے مگر جب وہ گھر پہنچی تو اس کی خوشیاں غم میں تبدیل ہوگئیں۔ کیوں کہ اس نے دیکھا کہ اس کا لڑکا خودکشی کر کے اپنی جان دے چکا ہے۔(ٹائمز آف انڈیا، 22 جولائی 1996) ہریش بابو اگر چند گھنٹے اور انتظار کر لیتا تو اس کو معلوم ہو جاتا کہ اس کا اندیشہ بالکل بے بنیاد تھا۔ امتحان میں وہ اچھے نمبر لا کر پاس ہو چکا تھا، مگر وہ فرضی اندیشے میں مبتلا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے خوف کے تحت اپنی جان دے دی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات کا غلط اندازہ کر کے آدمی اندیشوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ مستقبل بتاتا ہے کہ وہ اندیشے سرے سے پیش آنے والے ہی نہ تھے۔ جو چیز آج نہ مل رہی ہو اس کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔ بجائے اس کے کہ اس کو نہ ملنے والی چیز سمجھ کر آپ مایوسی اور بے ہمتی کا شکار ہو جائیں۔ دوسرا چانس دہلی میں ایک ڈگری کالج ہے جس کو ایک ہندو سنستھا چلاتی ہے۔ اس میں لیکچرر شپ کی ایک جگہ نکلی۔ جن لوگوں نے درخواست دی ان میں سے ایک مسلمان بھی تھے۔ انٹرویو ہوا تو ایک ہندو امیدوار کو چن لیا گیا مسلم امیدوار نا کام کر دیے گئے۔ مذکورہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی تو وہ بہت جھنجھلائے ہوئے تھے ۔ انھوں نے اس کو تعصب کا معاملہ سمجھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس کے خلاف اخبار میں لکھیں اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page