تعمیر حیات
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
ماضی کے لیے اپنی کوتاہی کا اعتراف حال میں عمل کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ ایسا آدمی ازسرِنو عمل کرکے حال میں وہ چیز پالیتا ہے جس کو وہ ماضی میں نہ پاسکا تھا۔ ایک واقعہ مسٹر عبدالمحیط خاں (ریٹائرڈ جوائنٹ ڈائرکٹر) آج کل فیض آباد میں رہتے ہیں۔ 28 جون 1995 کی ملاقات میں انھوں نے اپنی سروس کے زمانے کے کئی سبق آموز تجربات بتائے۔ ان میں سے ایک تجربہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ مسٹر اے ایم خان نے 1955 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ای کی ڈگری لی۔ 1963 میں چندولی (ضلع بنارس) کے پرائیویٹ پالیتیکنیک میں ایک جگہ خالی ہوئی ۔ یہ سینئر لکچرر کی جگہ تھی۔ اس کے ساتھ کامیاب امیدوار کو الیکٹریکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔ اس کا انٹرویو بنارس کے کمشنر جے بی ٹنڈن کی سرکاری رہائش گاہ پر تھا۔ کمشنر صاحب چندولی پالیتیکنیک میں بحیثیت عہدہ اس کی مینیجنگ کمیٹی کے صدر بھی ہوتے تھے۔ چنانچہ وہ بھی انٹرویو میں شریک تھے۔ انٹرویو بورڈ کے ایک رکن پروفیسر رام سرن تھے۔ دوسرے رکن پروفیسر گیرولاتھے۔ پروفیسر گیرولا بنارس ہندو یونیورسٹی میں مسٹر خان کے استاد رہ چکے تھے۔ پروفیسر رام سرن نے مسٹر خان سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ انسٹرومنٹ ٹرانسفارمر کیا ہوتا ہے: Mr. Khan, do you know what is instrument transformer? مسٹر خان نے ابھی سوال کا جواب نہیں دیا تھا کہ پروفیسر گیرو لا نے کمشنر ٹنڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے بہتر امیدوار ہیں۔ ان کے لیے انٹرویو دینے کا کوئی سوال نہیں: He is the best candidate. There is no question of interview.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader