ایک واقعہ
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد انھوں نے اسے ایم خان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر خان، آپ جاسکتے ہیں : Mr. Khan, you can go. پروفیسر سرن جنھوں نے سوال کیا تھا وہ خاموش رہے مسٹر خان اپنے کاغذات لے کر کمرہ سے باہر آگئے، ایک ہفتہ کے بعد ان کو حسب قاعدہ اپائنٹمنٹ لیٹر مل گیا۔ وہ چند ولی پالی ٹکنیک میں سینئر لیکچرر مع ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ الیکٹریکل انجینئر نگ مقرر ہو گئے ۔ اس کے بعد ان کی ترقی ہوتی رہی ۔ یہاں تک کہ وہ جوائنٹ ڈائرکٹر ( ٹیکنکل ایجوکیشن ) کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ آج کل اکثر نوجوان یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ روزگار نہیں۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قابل روزگار افراد نہیں۔ مسٹر اے ایم خان کے ساتھ مذکورہ واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ انھوں نے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوئے، تعلیم کے دوران ان کا کردار نہایت عمدہ رہا۔ پروفیسر گیر و لا اور دوسرے متعلق لوگوں کے درمیان ان کی تصویر نہایت عمدہ بنی ۔ اسی کی وہ قیمت تھی جو مذکورہ شاندار واقعے کی صورت میں انھیں ملی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر اچھے کارکنوں کو چاہتا ہے ۔ کیوں کہ اس کے بغیر اس کا کام درست طور پر نہیں چل سکتا۔ کوئی بھی آدمی اپنا دشمن نہیں ، اس لیے کوئی بھی آدمی اچھے کارکن کو نظر انداز کرنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھا اور قابل اعتماد کارکن دوسروں کی ضرورت ہے۔ آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیے، اور پھر آپ کے لیے روزگار حاصل کرنا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔ اس دنیا کا نظام دوطرفہ لین دین پر چل رہا ہے ۔ یہاں شکایت اور احتجاج اور مطالبہ کی کوئی قیمت نہیں ۔ اس دنیا کا سادہ اصول یہ ہے کہ ۔ جتنا دینا اتنا پانا۔ اگر آپ روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو دوسروں کے لیے مفید بنائیے۔ اپنے اندر وہ مہارت پیدا کیجیے جس کی دوسروں کو ضرورت ہے۔ اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader