مسائل پر صبر
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
مسائل پر صبر ایک بستی تھی۔ وہاں کے لوگ بہت تیز زبان تھے۔ وہاں دو آدمیوں نے دکان کھولی۔ ایک نوجوان تھا اور دوسرا بوڑھا۔ نوجوان کی دکان جلد ہی ختم ہوگئی۔ بوڑھے کی دکان چلتی رہی۔ آج وہ اس بستی میں سب سے بڑا دولت مند بنا ہوا ہے۔ اب ہر آدمی اس سے ادب کے ساتھ بات کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نوجوان دکان دار نے جب دیکھا کہ جو گاہک آتا ہے وہ تیز زبان میں بات کرتا ہے تو اس نے لوگوں کی تیز کلامی کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے خلاف لوگوں کی تیز کلامی تیز دستی تک پہنچ گئی۔ لوگوں نے اس کو پکڑ کر مارا، یہاں تک کہ وہ دکان بند کر کے وہاں سے بھاگ گیا۔ بوڑھے دکان دار کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ اس نے لوگوں کی تیز زبان اور درشت کلام کو نظر انداز کیا۔ اس نے اپنی نظر صرف لوگوں کی ”جیب“ پر رکھی، اور لوگوں کی ”زبان“ سے اپنی نظر ہٹالی۔ اسی پالیسی کا نتیجہ تھا کہ اس نے اپنی دکان داری میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ یہ دنیا کی کامیابی کا واقعہ ہے۔ آخرت کی کامیابی کا اصول بھی یہی ہے۔ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی اسی طرح لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص دنیا میں صبر کا طریقہ اختیار نہ کرے اس کے لیے آخرت کی ”تجارت“ کو کامیاب بنانا ممکن نہیں۔ آخرت کی کامیابی کے لیے اہل ایمان کو جو فرض سونپا گیا ہے، وہ دعوت الی اللہ ہے۔ اسی فرض کی انجام دہی پر ان کو وہ کامیابی ملنے والی ہے جس کو آخرت کی جنت کہا گیا ہے۔ نیز جب اہل ایمان یہ خدائی ذمہ داری ادا کرتے ہیں تو ابتدائی انعام کے طور پر انھیں دنیا میں بھی سر بلندی دی دی جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ صبر پر قائم نہ ہو سکیں تو وہ دنیا میں بھی محروم رہتے ہیں اور آخرت میں بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader